Posted in pencil

آگہی 

جس کو مل گئی ہو آگہی

گفتگو پھر اسکی کم رہی

 بے خبر وحشی جو رہا

 بولتا وہ رہا چیختا ہی رہا

لفظ فقط اک ہی کافی ہے اسے 

آگہی ہو جسے ۔۔۔

ترجمہ از پنسل

  ترکی کے صوفی شاعر یونس امرہ کی نظم سے کیا گیا ہے ۔

Posted in pencil

مسکراہٹ 

ہمیشہ مسکراتے رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسکرانے  والے کو کچھ بھی برا نہیں لگتا ۔۔ غصہ نہیں آتا ۔۔یا باتوں کی  سمجھ نہیں ہے۔۔نہیں،  یہ مسکراہٹ تو اسکے ظرف کی عکاس ہوتی ہے ۔۔اسکی برداشت، حوصلہ اور وسعت قلب کو ظاہر کرتی ہے۔دوسروں کے نقطہ نظر کا احترام اور سوچ کے احترام کو ظاہر کرتی ہے۔

Posted in pencil

زندگی اک جہد مسلسل 

انسان ماضی و حال کے درمیان اک مسافر کی مانند رواں دواں ہے۔ ہر لمحہ بدلتی زندگی کے نئے نئے رنگوں سے آشنا ہوتے سیکھنے کا عمل جاری و ساری ہے ۔کچھ سبق یاد ہوتے ہیں تو کچھ بھول جاتے ہیں ۔پھر وقت ان بھولے ہوئے اسباق کی دہرای بھی کروا دیتا ہے اور اسی کا نام زندگی ہے۔کہتے ہیں نا

‘treveling is learning’

زندگی سفر ہے، انسان مسافر ، سو مسافر وہی اچھا جو چلتا جائے سیکھتا جائے۔

Posted in pencil

۔۔لفظ، معنی ،مفہوم 

آج کے اس تیز رفتار دور میں بظاہر انسان ترقی تو بہت کر گیا ہے مگر انسانیت تو جیسے ختم ہوتی جا رہی ہے احترام،حیا، گفتگو کے آداب علمی بحثیں سب گزشتہ عہد کی باتیں رہ گئی ہیں ۔عام آدمی بس عام ہی ہو گیا ہے ہر چیز سے  آزاد۔۔۔۔ نہ اخلاق، نہ علم، نہ دین عام آدمی کو اسکی ضرورت نہیں رہی ۔اسکی زندگی تو شاید کمانے کھانے اور دکھانے میں ہی گزر جاتی ہے۔کتابیں علمی باتیں ادب ثقافت تو بڑے لوگوں کی باتیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس قدر ترقی اور بے بہا علم کے عام آدمی ان سب سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن ہے ۔اسکی اپنی ہی سوچ ہے اسکی لغت الگ ہے،کیا لفظ اور کیا انکے معنی اور کیا مفہوم ۔۔سب کچھ الگ ہے ۔ سو ایسے میں تقدس سے توہین کا سفر پل میں طے ہو جاتا ہے ۔کسی بھی لفظ کو کوئی بھی معنی  و مفہوم دیے جاسکتے ہیں۔جو شاید کہنے والے  کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں ۔ شیکسپیئر نے درست ہی کہا ہے کہ ‘For there is nothing either good or bad, but thinking makes it so.’ 

عبیداللہ علیم کے بقول’استعآرہ پھول میں خوشبو کہ سمجھانے کا نام ‘مگر عام آدمی استعارہ کو ہی خوشبو سمجھنے پر زور دیتا ہے ایسے لوگوں کو کون سمجھائے ۔اور ان کو سمجھانا گویا جوئے شیر لانے ہے۔