Posted in pencil

آگہی 

جس کو مل گئی ہو آگہی

گفتگو پھر اسکی کم رہی

 بے خبر وحشی جو رہا

 بولتا وہ رہا چیختا ہی رہا

لفظ فقط اک ہی کافی ہے اسے 

آگہی ہو جسے ۔۔۔

ترجمہ از پنسل

  ترکی کے صوفی شاعر یونس امرہ کی نظم سے کیا گیا ہے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s