Posted in pencil

سچ کڑوا کیوں ہوتا ہے ؟ 

سچ کڑوا نہیں ہوتا ۔سچ بولنے کا انداز کڑوا ہوتا ہے۔ہمارےہاں سچ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے زیادہ بولاجاتا ہے ۔ہم سچ سے اصلاح نہیں کرتے قتل کرتے ہیں۔ یہ کام آسان  ہے اس میں محنت نہیں کرنی پڑتی اخلاص، محبت ،صبر ، برداشت ان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور ہماری انا کی تسکین بھی ہو جاتی ہے ہم اپنی نظروں میں سب سے اچھے بھی بن جاتے ہیں اور سچے بھی ۔بے باک ایسے  کہ کسی کو رعایت نہیں ، جو بھی ہو سچ ہی بولیں گے گویا سچ نہ ہوا بندوق کی گولی ہوئی جو بھی سامنے آیا ڈھیر کر دیا ۔پھر کہنا لوگوں کو سچ گوارا نہیں ۔کوئی پوچھے کہ بات کرنے کے بھی آداب ہوتے ہیں مینرز ہوتے ہیں وہ صرف کتابوں تک ہی کیوں؟ عمل کون کرے گا ؟ علم تو عمل کے بنا ادھورا ہے۔ بھلا باتوں سے بھی کبھی درد کا درماں ہوا ہے۔۔۔شبنم سے بھی کھبی پیاس بجھی ہے ؟جیسے جسم روح کے بنا مردہ ہوتا ہے ایسے ہی عمل نیت سے پہچانا جائےگا۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ

 "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے "

پس جیسی ہمارے دل کی نیت ہوگی وہی ہمارے اعمال کی روح ہوگی نہ کہ وہ دکھاوا جو دوسروں کے سامنے کیا جائے گا ۔پس جب انسان کا اندر ٹھیک ہو جائے تو باہر بھی سب ٹھیک ہو جاتا ہے ۔بس اپنے اندر کے پارسا کو مضبوط  کرنے کی ضرورت ہے ۔

صابر ظفر صاحب نے بھی کیا خوب کہا ہے 

ظاہرا ظفر تیری ہر اک ادا مشکوک تھی

پر تیرے اندر چھپا پارسا اچھا لگا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s