Posted in pencil

ذرا سوچیے ! 

ہمارے ملک میں جہاں نوجوان کی اکثریت علم سے مالا مال ہے، شاعر، ادیب، دانشور، سائنس دان، فلاسفر، ڈاکٹرز، انجنیئرز، بنکر غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم یافتہ افراد بکثرت موجود ہیں ۔سر ظفر اللہ خان ،ڈاکٹر عبدالسلام ہوں کہ پروفیسر ہود بھائی، ستارہ بروج اکبر ہو  یا ملالہ یوسفزئی ہم کہتے ہیں کہ ہم کسی سے کم نہیں ۔یقینا یہ ہیرے موتی جیسے لوگ ہیں مگر کیا صحیح معنوں میں ہم نے انکی قدر کی ہے؟ کچھ سیکھا بھی ہے ان سے یا پھر صرف انکے نام اور کاموں پر فخر ہی ہے بس؟؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بازگشت کی طرح گونج رہا ہے۔ہماری  سیاست،  پارلیمنٹ اور 50 سالہ  سیاسی تاریخ اس بات کا چیخ چیخ کر اظہار کر رہے ہیں کہ یہ قوم ایک گول دائرے میں چکر کاٹ رہی ہے جہاں سے باہر نکلنے کا انہیں راستہ نہیں مل رہا ۔ صورتحال بد تر سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔بے گناہ شہریوں ، بچوں کا خون بہایا جا رہا ہے مگر نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ جواب دینے والا ۔۔۔حکومت یا عوام شاید دونوں ہی گہری نیند سو رہے ہیں؟؟بے حسی کی انتہا ہو چکی ہے کہیں لاشیں اٹھ رہیں ہیں تو کہیں گدھے بک رہے ہیں، گٹر کے گند سے صابن بن رہے ہیں تو کہیں پیشاب کی بوتلوں سے بچوں کے فیڈر۔۔۔ غرض  لالچ اور ہوس انتہا کو پہنچ چکی ہیں ، قانون کیا ہوتا ہے ہمیں پتہ نہیں ، ہر بندہ اپنی مرضی کا مالک ہے ۔کہتے ہیں کسی ملک کی ٹریفک سے اسکے باشندوں کے کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔۔۔اور ہمارے ہاں ٹریفک کا جو حال ہے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔

ذرا سوچئے !  ہمیں کوئی اور قتل کر رہا ہے کہ ہم خود ہی ایک دوسرے کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں؟

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اسقدر  تعلیم یافتہ ہونے کا کیا فائدہ جب آنکھوں پر جہل کی پٹیاں باندھی ہوئی ہوں تو؟ دوسرں پر الزام تراشی کرنے کے بجائے ہمیں اپنا گریبان چاک کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو دور کیے بغیر تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ۔ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔جب تک عوام میں بیداری پیدا نہیں ہوگی فرق نہیں پڑے گا ۔

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s