Posted in pencil

سپنے 

چھین لیتے ہیں یہ آنکھوں سے نیند اکثر 

سارے  سپنے  سہانے  نہیں  ہوتے  

Advertisements
Posted in شاعری

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم 

پیڑ کو  دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم 
دونوں ہی کو امجدؔ ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا

سورج کی بس ایک کرن سے گھٹ جاتا ہے دَم

رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے!

شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تتلی کیسے رَم!

آنکھوں میں یہ پلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں،

دل کے چاند چراغ کی دیکھو، لو نہ ہو مدھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں

بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم!
امجد اسلام امجد

Posted in pencil

روپ 

سائنس کی روز بروز بڑھتی ہوئی ترقی اور نت نئی ایجادات کے ساتھ ساتھ منافقت، جھوٹ اور فریب نے بھی  کئی روپ دھار لیے ہیں۔۔۔ گویا بھلآئی اور برائی دونوں ہی اپنے عروج پر ہیں ۔اور ہم ان دونوں انتہائوں کے درمیان دنیا سے ناپید ہوتی انسانیت کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔

Posted in شاعری

 اک التفات جھلکتا ہے کج ادائی میں بھی 

 

 

اک التفات جھلکتا ہے کج ادائی میں بھی

وفا کی رمزہے ،اِس طرزِبے وفائی میں بھی

بجا کہ واقفِ اَسرارِ عشق تھے ہم لوگ
سو ہم نے لُطف لیا  رنجش و جدائی میں بھی

یونہی تو بے در  و  بے گھر نہیں ہوا مجنوں
بڑا مزہ ہے محبت کی جگ ہنسائی میں بھی

قفس کھلا ہے،پہ اُڑنے کو پَر نہیں کھلتے
"میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی”

لہو سے خاک پہ نقشِ قدم بناتے ہوئے
ذرا سی دُورچلے ،ہم شکستہ پائی میں بھی

ترے ستم پہ اگر چہ ہُوا ہے واویلا
مگر تجھے ہی پکارا  گیا ،دُہائی میں بھی

عجیب  دل  ہے، کسی معجزے کا طالب ہے
کوئی تو آس ہے، اس خوفِ نا رسائی میں بھی

ہم آج کیوں نہ ترے منہ پہ زندگی کہہ دیں
ہمیں تو دُکھ ہی ملے تجھ سے منہ دکھائی میں بھی

اُڑان بھر نہیں پائے عجیب  طائر تھے
قفس کی یاد میں روتے رہے ،رہائی میں بھی

نکل نکل کے بھی اُن کے نہ ولولے نکلے
پلے بڑھے تھے جو آغوشِ پارسائی میں بھی

کہاں کہاں پہ سروں کو جھکائیں ہم مولا
قدم قدم پہ خدا ہیں تری خدائی میں بھی

جو اِک کجی ہے طبیعت میں وہ نہیں جاتی
وہ پیش پیش رہے شوقِ خود نمائی میں بھی

سروں میں جن کے سمائی ہے بُوئے سلطانی
وہ واہ واہ کے طالب ہیں نا رسائی میں بھی

اِ ک آدھ شعر بھی اپنا نہ کام کا نکلا
اِک عمر ہم نے گزاری غزل سرائی میں بھی

پکارتے رہے تجھ کو نگاہ کے کاسے
سوال لب پہ نہ آیا مگر گدائی میں بھی

وہ جس سے چارہ گری کی اُمید تھی مجھ کو
اُسی نے زہر ملایا مری دوائی میں بھی

کبھی نہ بھائیں ہمیں ، جی حضوریاں عرؔشی

لبِ خموش رہے،ہم مدح سرائی میں بھی

عرشی ملک

Posted in شاعری

تمام شد 

وہ درد ، وہ وفا ، وہ محبت تمام شد
لے!  دل میں ترے قرب کی حسرت تمام شد
یہ بعد میں کھلے گا کہ کس کس کا خون ہوا
ہر اِک بیاں ختم ، عدالت تمام شد
تو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شد
اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی عادت تمام شد
جائز تھی یا نہیں ، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت تمام شد
وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چیرتی وحشت تمام شد
محسن میں کنج زیست میں چپ ہوں پڑا
مجنوں سی وہ خصلت و حالت تمام شد

Posted in شاعری

انجام

فرصت ہے کسے جو سوچ سکے پس منظر ان افسانوں کا

کیوں خواب طرب سب خواب ہوئے کیوں خون ہوا ارمانوں کا

طاقت کے نشے میں چور تھے جو توفیق نظر جن کو نہ ملی

مفہوم نہ سمجھے وہ ناداں قدرت کے لکھے فرمانوں کا

پستے ہیں بالآخر وہ اِک دن اپنے ہی ستم کی چکّی میں

انجام یہی ہوتا آیا فرعونوں کا ہامانوں کا

جب زخم لگیں تو چہروں پر پھولوں کا تبسم لہرائے

فرزانوں کا اتنا ظرف کہاں ، یہ حوصلہ ہے دیوانوں کا

اے صبر و رضا کے متوالو ، اُٹھو تو سہی ، دیکھو تو سہی

طُوفانوں کے مالک نے آخر رُخ پھیر دیا طوفانوں کا

اب آئے جو یار کی محفل میں جاں رکھ کے ہتھیلی پر آئے

اس راہ پہ ہر سُو پہرہ ہے کم فہموں کا نادانوں کا

آندھی کی طرح جو اُٹھے تھے وہ گرد کی صورت بیٹھے ہیں

ہے میری نگاہوں میں ثاقب ؔ انجام بلند ایوانوں کا