Posted in pencil

خوفزدہ شریف آدمی

ہمارے معاشرے میں شریف آدمی کو ساری زندگی اسی خوف میں مبتلا رکھا جاتا ہے کہ اسکی شرافت کی سفید چادر پر کوئی دھبہ نہ لگ جائے یعنی یہ کوئی ایسی صفت ہے جو ہر وقت خطرہ میں ہے۔ گویا شرافت نہ ہوئی پانی کا بلبہ ہوا۔اور باقی سب کو کھلی چھٹی ہے جو بھی کریں، کیونکہ وہ شریف نہیں کہلاتے، نہ انکی چادر سفید ہے نہ میلی ہونے کا یا دھبہ لگنے کا ڈر ہے سو وہ آزاد ہوئے زمانے کے خوف سے، قانون سے، مذہب سے تہذیب سے ۔۔۔

اور شریف آدمی ۔۔؟
زندگی بھر اپنی شرافت کی حفاظت میں لگا رہے گا۔وہ سچ نہیں بول سکے گا کیونکہ شرافت کو خطرہ۔۔۔وہ سچی گواہی نہیں دے سکے گا کیونکہ شرافت کو خطرہ۔۔۔ہاں وہ خاموش رہے گا کیونکہ اگر بولا تو شرافت کی چادر کو کوئی بھی مخالف میلا کر دے گا اور سفید چادر پر دھبا لگ جائے تو آسانی سے نہیں اترتا ۔۔! سو شرافت کا مطلب ہوا ۔۔۔۔ خاموشی۔۔!! یا دوسرے الفاظ میں یوں کہ لیں کہ گونگے بہرے اوراندھے بن کر رہنا ۔معاشرے میں موجود خامیوں کو خامی نہ کہنا، اکثریت کی رائے سے اختلاف نہ رکھنا ، ورنہ معاشرے سے شرافت کا سرٹیفکیٹ نہیں ملے گا۔ البتہ جان عذاب میں ضرور آجائے گی شریف آدمی کی، سو یہ ایسا خوف ہے جو ہر سچ اور انصاف کی راہ میں باآسانی حائل کیا جاتا ہے اور ہم سب اس خوف کو پورے زور سے قائم رکھے ہوئے ہیں جیسے یہ کوئی مقدس تعلیم ہو۔

” عزت سے بڑی کوئی چیز نہیں ” اکثر و بیشتر ہم یہ سنتے ہیں جیسے بندے کا کام ہے عزت بانٹنا۔۔

عزت و ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے اگر بندوں کے ہاتھ میں ہوتا یوں عزت تقسیم کرنا تو سب اپنوں میں ہی بانٹ لیتے اور کچھ کنجوس اسے اپنے سوا کسی کو دینا پسند نہ کرتے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s