Posted in شاعری

تمام شد 

وہ درد ، وہ وفا ، وہ محبت تمام شد
لے!  دل میں ترے قرب کی حسرت تمام شد
یہ بعد میں کھلے گا کہ کس کس کا خون ہوا
ہر اِک بیاں ختم ، عدالت تمام شد
تو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شد
اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی عادت تمام شد
جائز تھی یا نہیں ، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت تمام شد
وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چیرتی وحشت تمام شد
محسن میں کنج زیست میں چپ ہوں پڑا
مجنوں سی وہ خصلت و حالت تمام شد

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s