Posted in شاعری

زندگی کے میلے میں 

زندگی کے میلے میں ، خواہشوں کے ریلے میں

تم سے کیا کہیں جاناں ، اسقدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے ، بخت کی گِرانی ہے
سخت بے زمینی ہے ، سخت لا مکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر کی بھر کی ہے

عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں!
درد کے سمندر میں
ان گنت جزیرے ہیں ، بے شمار موتی ہیں
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھا
بات اُس دئیے کی ہے
بات اُس گِلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پر ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے ، بات رتجگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو؟
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اِک نگاہ کافی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات وہ پتے کی ہے
ہو سکے تو سُن جائو ایک دِن اکیلے میں
زندگی کے میلے میں ، خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اسقدر جھمیلے میں

امجد اسلام امجد

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s