Posted in شاعری

 اک التفات جھلکتا ہے کج ادائی میں بھی 

 

 

اک التفات جھلکتا ہے کج ادائی میں بھی

وفا کی رمزہے ،اِس طرزِبے وفائی میں بھی

بجا کہ واقفِ اَسرارِ عشق تھے ہم لوگ
سو ہم نے لُطف لیا  رنجش و جدائی میں بھی

یونہی تو بے در  و  بے گھر نہیں ہوا مجنوں
بڑا مزہ ہے محبت کی جگ ہنسائی میں بھی

قفس کھلا ہے،پہ اُڑنے کو پَر نہیں کھلتے
"میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی”

لہو سے خاک پہ نقشِ قدم بناتے ہوئے
ذرا سی دُورچلے ،ہم شکستہ پائی میں بھی

ترے ستم پہ اگر چہ ہُوا ہے واویلا
مگر تجھے ہی پکارا  گیا ،دُہائی میں بھی

عجیب  دل  ہے، کسی معجزے کا طالب ہے
کوئی تو آس ہے، اس خوفِ نا رسائی میں بھی

ہم آج کیوں نہ ترے منہ پہ زندگی کہہ دیں
ہمیں تو دُکھ ہی ملے تجھ سے منہ دکھائی میں بھی

اُڑان بھر نہیں پائے عجیب  طائر تھے
قفس کی یاد میں روتے رہے ،رہائی میں بھی

نکل نکل کے بھی اُن کے نہ ولولے نکلے
پلے بڑھے تھے جو آغوشِ پارسائی میں بھی

کہاں کہاں پہ سروں کو جھکائیں ہم مولا
قدم قدم پہ خدا ہیں تری خدائی میں بھی

جو اِک کجی ہے طبیعت میں وہ نہیں جاتی
وہ پیش پیش رہے شوقِ خود نمائی میں بھی

سروں میں جن کے سمائی ہے بُوئے سلطانی
وہ واہ واہ کے طالب ہیں نا رسائی میں بھی

اِ ک آدھ شعر بھی اپنا نہ کام کا نکلا
اِک عمر ہم نے گزاری غزل سرائی میں بھی

پکارتے رہے تجھ کو نگاہ کے کاسے
سوال لب پہ نہ آیا مگر گدائی میں بھی

وہ جس سے چارہ گری کی اُمید تھی مجھ کو
اُسی نے زہر ملایا مری دوائی میں بھی

کبھی نہ بھائیں ہمیں ، جی حضوریاں عرؔشی

لبِ خموش رہے،ہم مدح سرائی میں بھی

عرشی ملک

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s