Posted in pencil

پاگل نے جب چاند پہ تھوکا

آجکل بلاسفیمی ایشو پریشان کن صورتحال اختیار کر گیا ہے۔کئی بے گناہ ہجوم کے ہاتھوں بیہیمانہ قتل ہوئے اور کچھ سالوں سے جیل کی کال کوٹھری میں بند ہیں مگر انکا باہر آنا ممکن نظر نہیں آتا گویا وہ زندہ ہی درگور کر دیے گئے ہیں۔ بلاسفیمی کا الزام ہی کسی کی جان لینے کے لیے کافی ہے نہ ثبوت نہ تحقیق کی ضرورت،کیونکہ ہمارے ملک کا قانون اسکی سزا موت سناتا ہے سو کسی کی جان لینے کا آسان ترین طریقہ لوگوں کے ہاتھ آ گیا ہے، بندر کے ہاتھ میں بندوق ہو جیسے۔

مانا کہ ہر چیز کی حد ہوتی ہے مینرز اور ایٹیکیٹ ہوتے ہیں لیکن اگر کچھ لوگوں میں اخلاق کا معیار پست ہو اور وہ کوئی ایسی غلطی کر ہی بیٹھے تو کیا انکو اس بات پر سزا ملنی چاہئے؟ جبکہ سب ہی جانتے ہیں کہ جو شخص کسی کی ہتک کرتا ہے یا گالی دیتا ہے تو وہ دراصل اپنا کردار دکھا رہا ہوتا ہے۔
پھر یہ کہ اس بات پر اتفاق کیسے ہو کہ گستاخی کیا ہے؟

اسکی حد کیا ہے؟

کس بات کو گستاخی سمجھا جائے کس کو نہیں؟
انگریزوں نے جو قانون بنایا تھا وہ یہی تو تھا کہ کسی کے مذہبی پیشوا کی ہتک نہ کی جائے۔تو کیا اسکا نتیجہ ہم دیکھ نہیں رہے؟ یہ قانون تو ناکام ہو گیا ہے ۔
آج کوئی بھی کسی بھی بات پر کسی کو بھی گستاخی کا الزام لگا کر یا تو سالوں تک جیل میں بند کروا سکتا ہے یا لوگوں کے ہاتھوں بیہیمانہ قتل کروا سکتا ہے ۔
گلی محلوں میں ذاتی انتقام لینے کے لیے بھی اب یہی گستاخی ہتھیار کہ طور پر استعمال ہو رہی ہے ۔
ایسی صورت حال میں ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھنا چاہیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بڑھیا کی عیادت کرنے گئے جو روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا پھینکا کرتی تھی،

طائف میں لہو لوہان۔۔۔۔ خون سے بھرے جوتے۔۔۔۔۔ اور آپﷺ انکی تباہی کی بد دعا تک نہیں کرتے۔

جب کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز پڑھتے ہوئے اوجھڑی ڈال جاتے تھے تو کیا یہ سب گستاخیاں نہیں کہلاتیں؟

کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا ایمان اتنا کمزور تھا کہ وہ یہ سب برداشت کر لیتے تھے؟ کجا یہ کہ صدیوں بعد کوئی اگر کم فہمی یا لا علمی میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یا کسی بزرگ پر کوئی غلط بات کر دے تو ہم زیادہ ایمان والے ہیں کہ اسکا سر قلم کرنے یا سزا دلوانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں؟
ایسے حملوں اور بد زبانیوں کا جواب قلم سے دیں نہ کہ سر قلم کرنے سے۔

زندگی خدا نے دی ہے اسےاسطرح ختم کرنا کیا خدا کی گستاخی کرنا نہیں؟

یہ تو خدائی اپنے ہاتھ میں لینا ہوا۔
اسلام کی تعلیمات پر عمل کرکے اپنے عمل سےجواب دیں ۔
بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرکے اپنے کردار سے جواب دیں ۔
جب دل دکھی ہوں ایسی بد زبانیوں سے تو دعا کا ہتھیار استعمال کریں ۔
غیر مسلموں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں تاکہ وہ جان سکیں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ۔
جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں قصور کہیں نہ کہیں ہمارا بھی ہے۔اگر اسلامی ممالک اور مسلمان اسلام کی تعلیمات پر صحیح طور پر عمل کرتے تو ایسے حملے کرنے والے اپنے منہ کی کھاتے ۔
پہلے تو مسلمانوں کو ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہے نہ کہ دوسروں سے مطالبہ شروع کر دیں ۔
اسکا حل یہی ہے کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں۔قرآن کریم میں تو کہیں گستاخی کی سزا مقرر نہیں ہے نہ ہی قرآن مجید سے کوئی ایسی ہدایات ملتی ہیں کہ انبیاء علیہم السلام یا مذہب کو برا بھلا کہنے سے دین کی یا انبیاء کرام کی کوئی ہتک ہوتی ہے ۔
یہ تو ایسے ہی ہے کہ

اپنا منہ ہی کر لیا گندا
پاگل نے جب چاند پہ تھوکا

حیرت تب ہوتی ہے جب ایسے پاگلوں کی جان لینے کو لوگ باولے ہونے لگیں۔ایسے پاگل کو پتھر مارنا یا جیل میں بند کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
جواب دینا ہے تو عمل سے دیں ۔
کردار سے دیں ۔
قلم سے دیں ۔
دعا سے دیں ۔
قرآن کریم تو سکھاتا ہے
لکم دینکم ولی الدین
تمہارے لیے تمہارا دین، میرے لیے میرا دین ۔
اور یہ بھی تو قرآن کریم میں ہے (مفہوم ) جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو ۔۔۔اور اگر کوئی وسوہ پہنچے تو اللہ کی پناہ طلب کرو۔پھر تم صاحب بصیرت ہو جاؤ گے۔
یہی تعلیم ہے اس پر عمل کرنے کی ضرورت بھی ہے اور فرض بھی یہی ہے۔قتل اور فساد بہرحال اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبر و دعا ہی سکھاتا ہے۔

وہ اِحسان کا اَفسوں پھونکا،موہ لیا دل اپنے عدو کا
کب دیکھا تھا پہلے کسی نے،حسن کا پیکر اس خوبو کا

نخوت کو ایثار میں بدلا،ہر نفرت کو پیار میں بدلا
عاشق جان نثار میں بدلا،پیاسا تھا جو خار لہو کا

توڑ دیا ظلمات کا گھیرا،دُور کیا ایک ایک اندھیرا
جَاءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِل٭ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقا

Advertisements
Posted in pencil

سوال، مذہب اور مولوی

کیا خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے لیے کسی قانون کی ضرورت ہے؟

کیا اسلام سے پہلے خدا تعالٰی کی حاکمیت دنیا پر قائم نہیں تھی؟

کیا اسلام سے پہلے دنیا نظام باطل پر چل رہی تھی؟

کیا صوفیاء ، اولیاء کا وجود اس دنیا سے اٹھ گیا ہے؟اور

دین کی ذمہ داری صرف مولوی کے پاس آگئ ہے؟؟

دین درحقیقت کیا تعلیم دیتا ہے؟

کیا دین کی تعلیمات اتنی سختی رکھتی ہیں اور ایسی مقدس ہیں کہ انکی خاطر ایک انسان دوسرے کا جینا دوبھر کر دے یا جان لے سکے؟

Posted in pencil

آئینہ

چہرے کی دھول۔۔۔

لباس پر داغ دیکھ کر

پتھر اٹھایا آئینہ پہ دے مارا

مگر یہ کیا۔۔۔؟

اک آئینہ

کئی آئینوں میں بٹ گیا

چہرے کی دھول۔۔

پیرہن کا داغ۔۔

ہر آئینے میں نظر آیا

سب آئینے بول اٹھے

چہرے پہ دھول ہے

پیرہن پہ داغ ہے

اک صدا

کئی صداؤں میں بکھر گئی

تب من بولا

تھوڑا ہولا

کتنے آئینے توڑے گا۔۔۔؟

جا۔۔۔منہ دھو۔۔!

پیراہن صاف کر۔۔!!