Posted in pencil

تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام (حصہ اول)

آدم اور حوا کے بیٹوں کے نام ایک پیغام ۔
یہ پیغام وہ منظر کشی کرنے سے قاصر ہے جو ابن آدم کے احساس برتری کی بدولت ہر دور میں بنت حوا سہتی آئی ہے اور سہتی چلی جا رہی ہے ۔میں ان آہوں اور سسکیوں کو لفظوں میں ڈھالنے سے قاصر ہوں جو کل بھی اور آج بھی زندہ دفنا دی جاتی ہیں تو کہیں عزت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ میں ان ننھی کلیوں کا ذکر کیسے کروں جو کھلنے سے پہلے ہی مسل کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی جاتی ہیں، ان حسین چہروں اور خواب دیکھتی آنکھوں کو سوچوں جو تیزاب سے جھلسائے گئے، میں ان صداؤں کو کیسے دفناوں جو زندہ جلا دی جاتی ہیں اور بازگشت بن کر سنائی دیتی ہیں۔
خواب مرتے نہیں، خواب مٹائے جاتے ہیں
خواب تو زندگی ہیں، زندگی کو چھینا جاتا ہے
کبھی یہ وجہ کبھی وہ وجہ، عورت کی زندگی مرد کی رضا کے رحم و کرم پر ہی کیوں ہے؟ جس کو زندگی خدا نے دی ہو اسکی زندگی لینے کا حق مرد کو کس نے دیا ہے؟ اور جو زندہ ہیں وہ ہر روز کیوں مرتی ہیں؟ عزت اور شرافت کے نام پر ہر ظلم کیوں سہتی ہیں؟ مرد کی بےقابو ہوس کا نشانہ بنتی ہیں مگر وہ بول نہیں سکتیں کیونکہ جب وہ بولیں تو انکو تمغہ "عزت و شرافت "مردوں کے معاشرے سے نہیں ملتا بلکہ ایسی خواتین کو مزید کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، واہیات اور نازیبا باتیں سننی پڑتی ہیں۔ یہ وہ "مردوں کا معاشرہ” ہے جہاں مرد راہ چلتی عورت کو چھیڑ سکتا ہے، چھو سکتا ہے، اسکا پیچھا کر سکتا ہے، مڑ مڑ کر دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی عجوبہ ہو اور پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو ۔
وہ مردوں کا معاشرہ جہاں عورت گھر سے باہر نکلے تو چاہے برقعہ میں ہی کیوں نہ ہو وہ ہراساں کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے۔اور ایسے ایسے طریقوں سے مرد اپنی مردانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ بیان سے باہر ہے ۔ ایسے مردوں کا لباس بھی ان کی بے حیائی اور ننگ کو چھپا نہیں سکتا ۔
جو طرز عمل عمومی طور پر مردوں کا معاشرے میں ہے اس سے لگتا ہے عزت اور حیا کا مردانگی سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، مردانگی اور ہوس ایک ہی سکے کے دو رخ لگتے ہیں۔
عورت کو پردے کی تلقین کرنے والے اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو اچھا ہے کہ جب تک مردوں کو حیا اور نفس پر قابو کرنا نہیں سکھایا گیا تب تک کوئی عورت ،بچی یا بچہ محفوظ نہیں ،نہ ہی گھر میں نہ گھر سے باہر ۔چادر اور چار دیواری، عزت، غیرت یہ سب ان لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں جو اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔ وہ اخلاقیات کی ہر حد کو پار کرتے ہیں اور مکمل آزادی چاہتے ہیں۔
عورت کو پردے کی تلقین کرنے والے قرآن مجید میں مردوں کو دئیے گئے اس حکم کو کیسے بھول جاتے ہیں کہ غض بصر سے کام لو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ۔
حدود اگر عورت پر لاگو ہوتی ہیں تو حدود مرد پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جو حدود مرد پر لاگو ہوتی ہیں ان کو بھی بیان کیا جائے۔ ان کا بھی پرچار کیا جائے، مردوں کو اپنے نفس پر کنٹرول کرنا سکھایا جائے، بے محابہ جانوروں کی طرح ہوس سے پر ہونا مردانگی نہیں۔ مردانگی نام ہے سیلف کنٹرول کا، وقار کا، حیا کا۔ اعلی اخلاق، اعلی کردار، پاک کلام، پاک خیال، عورت کا احترام، صابر و صالح ہونا ہی مردانگی ہے۔
حیا صرف عورت کا زیور نہیں مرد کا بھی وصف ہے ۔صرف بدن پر کپڑا پہنے سے ننگ نہیں چھپتا جب تک حیا نہ ہو۔ اے ابن آدم اپنے ننگ کو ڈھانک!حیا اختیار کر یہی مردانگی ہے۔
Advertisements

2 thoughts on “تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام (حصہ اول)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s