Posted in شاعری

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم 

پیڑ کو  دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم 
دونوں ہی کو امجدؔ ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا

سورج کی بس ایک کرن سے گھٹ جاتا ہے دَم

رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے!

شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تتلی کیسے رَم!

آنکھوں میں یہ پلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں،

دل کے چاند چراغ کی دیکھو، لو نہ ہو مدھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں

بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم!
امجد اسلام امجد

Posted in pencil

روپ 

سائنس کی روز بروز بڑھتی ہوئی ترقی اور نت نئی ایجادات کے ساتھ ساتھ منافقت، جھوٹ اور فریب نے بھی  کئی روپ دھار لیے ہیں۔۔۔ گویا بھلآئی اور برائی دونوں ہی اپنے عروج پر ہیں ۔اور ہم ان دونوں انتہائوں کے درمیان دنیا سے ناپید ہوتی انسانیت کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔

Posted in شاعری

 اک التفات جھلکتا ہے کج ادائی میں بھی 

 

 

اک التفات جھلکتا ہے کج ادائی میں بھی

وفا کی رمزہے ،اِس طرزِبے وفائی میں بھی

بجا کہ واقفِ اَسرارِ عشق تھے ہم لوگ
سو ہم نے لُطف لیا  رنجش و جدائی میں بھی

یونہی تو بے در  و  بے گھر نہیں ہوا مجنوں
بڑا مزہ ہے محبت کی جگ ہنسائی میں بھی

قفس کھلا ہے،پہ اُڑنے کو پَر نہیں کھلتے
"میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی”

لہو سے خاک پہ نقشِ قدم بناتے ہوئے
ذرا سی دُورچلے ،ہم شکستہ پائی میں بھی

ترے ستم پہ اگر چہ ہُوا ہے واویلا
مگر تجھے ہی پکارا  گیا ،دُہائی میں بھی

عجیب  دل  ہے، کسی معجزے کا طالب ہے
کوئی تو آس ہے، اس خوفِ نا رسائی میں بھی

ہم آج کیوں نہ ترے منہ پہ زندگی کہہ دیں
ہمیں تو دُکھ ہی ملے تجھ سے منہ دکھائی میں بھی

اُڑان بھر نہیں پائے عجیب  طائر تھے
قفس کی یاد میں روتے رہے ،رہائی میں بھی

نکل نکل کے بھی اُن کے نہ ولولے نکلے
پلے بڑھے تھے جو آغوشِ پارسائی میں بھی

کہاں کہاں پہ سروں کو جھکائیں ہم مولا
قدم قدم پہ خدا ہیں تری خدائی میں بھی

جو اِک کجی ہے طبیعت میں وہ نہیں جاتی
وہ پیش پیش رہے شوقِ خود نمائی میں بھی

سروں میں جن کے سمائی ہے بُوئے سلطانی
وہ واہ واہ کے طالب ہیں نا رسائی میں بھی

اِ ک آدھ شعر بھی اپنا نہ کام کا نکلا
اِک عمر ہم نے گزاری غزل سرائی میں بھی

پکارتے رہے تجھ کو نگاہ کے کاسے
سوال لب پہ نہ آیا مگر گدائی میں بھی

وہ جس سے چارہ گری کی اُمید تھی مجھ کو
اُسی نے زہر ملایا مری دوائی میں بھی

کبھی نہ بھائیں ہمیں ، جی حضوریاں عرؔشی

لبِ خموش رہے،ہم مدح سرائی میں بھی

عرشی ملک