Posted in شاعری

لہو لہو

بلاسفیمی کا کھیل جاری ہے
آج میری کل تیری باری ہے
چند لفظوں کی حرمت کے لیے
مصور جہاں کے فن پاروں کی
کس قدر بے حرمتی کی جا رہی ہے
یہ کون رقصاں ہے سر بازار
کس کو خوں کی پیاس ستائے جا رہی ہے
وحشتوں کے سبھی سائے آ کر
میرے گرد گھیرا بنا کر
نوچ کر جسم میرا، لہو لہو
کس کی حرمت کی کر رہے ہیں پاسداری
انسانیت کی جاری یہ توہین، الاماں ،
کس مذہب میں اتنی اندھیاری ہے؟
کیا یہی ہے جو دین داری ہے۔۔؟؟
یا خدا۔۔! یہ جہاں وحشت زدہ
اور بازار خون آلودہ
راہ گزر غبار آلودہ
راہبر مدہوش، بے ہودہ
اور نظام سب فرسودہ
کس کی یہاں اجارہ داری ہے؟
کون کس پر کہاں بھاری ہے؟
لاعلمی بھی عذاب ہوئی
زندگی بے خواب ہوئی
آنکھ پرنم، پر آب ہوئی
دکھ کی پھیلتی چار سو یہ فضا،
بسبب رنجش یاراں ہوئی ہے
جانے کون کس کا یہاں دشمن ہو
جانے کون کس سے چھین لے زندگی
کچھ زیادہ تردد نہیں چاہیے
بس اک الزام توہین،
اور ۔۔۔ھو ھو۔۔۔۔ لہو لہو۔۔
خون سے رنگین ہونے لگی ارض وطن
سرد خوں بمقابل سلگتے بدن
اہل حق آج بھی ہو بہو
بہہ رہا ہے بدن سے
لہو لہو۔۔۔لہو لہو۔۔۔!!

Advertisements
Posted in pencil

حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا۔۔۔

جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ انسان اپنا خدا خود ہے۔ جس کا اظہار وہ اپنے عمل سے صدیوں سے کرتا آ رہا ہے۔ اپنے ہی ہاتھوں مٹی کے بت تراشنا پھر اس کو خدا کہنا اور اسکی پرستش کرنا، خود ہی پرستش کے اصول بنانا، اپنے تابع لوگوں کو ان اصولوں پر چلانا، معلوم ہوتا ہے کہ تقدس اور توہین کا کھیل یہاں سے ہی شروع ہوا ، جب کوئی ایسے ( انسان نما خدا )کے بنائے ہوئے اصول پر صحیح عمل نہ کر پایا ہوگا تو شاید یہی بات گستاخی یا توہین کہلائی ہوگی۔
کمزور لوگ اپنی مجبوریوں اور تکلیفوں کو دور کرنے کے لیے ایسے راستے تلاش کرتے ہیں جنہیں ہم عموما شارٹ کٹ کہتے ہیں۔ ابتدا میں انسان اس کائنات کے رازوں سے بے خبر تھا، وہ ہر شے کو جادوئی سمجھتا تھا لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب بھی ایسی جادوئی کہانیوں سے بھرے پڑے ہیں، جہاں انسان کوشش اور سمجھ بوجھ سے کام لینے کے بجائے جادو یا جنتر منتر کا سہارا لیتا رہا اور یہی سمجھا جاتا رہا کہ مشکلات کے حل کا طریقہ یہی ہے۔ آج بھی بے شمار لوگ توہمات اور ایسے عقیدوں پر چل رہے ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں میں پریکٹس کیے جاتے ہیں۔ جو بظاہر سمجھ بوجھ رکھنے والوں کے لیے حیران کن بات ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر منتیں مرادیں، قبروں پر چادریں چڑھانا، چراغ جلانا، درباروں سے اپنی مرادوں کا حصول، پیروں فقیروں کے پاس اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے جانا اور کالے جادو وغیرہ ایسے ہی کمزور عقیدہ اور کم فہم لوگوں میں عام طور پر پریکٹس کیا جاتا ہے۔ کہنے کو تو کہتے ہیں جہالت ہی انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے مگر نہیں بعض اوقات بڑے پڑھے لکھے اور سمجھ دار افراد بھی ایسی توہمات کا شکار نظر آتے ہیں۔ کسی چیز کے چھن جانے کا خوف یا کسی خواہش کو ہر قیمت پر حاصل کرنے کا جنون، ہر دو صورت میں یہ طبقہ سائنس، عمل اور کوشش کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہتا ہے جس سے ” معجزہ ” ہو اور انکی ضرورت پوری ہو جائے۔ اور اس معجزہ کے لیے وہ تن من دھن سب وار دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں معجزے کا ہونا نہ ہونا تو الگ رہا مگر یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ جتنی کوشش اور لگن سے معجزہ کا انتظام کیا جاتا ہے اس سےکم محنت سے وہی کام سیدھے طریقے سے کوشش کرنے سے بھی ہو سکتا ہے ۔ مگر نہیں ایسے لوگوں کو انکے پیر یا مذہبی رہنما وہ کراماتیں کرنا نہیں سکھاتے جن کے علم اور عمل سے وہ اپنی زندگیوں کو سنوار سکیں اور خود اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکیں، بجائے اس کے وہ انکو مختلف اصطلاحات میں الجھا کر ان سے انجانے میں ایسے طریقوں پر عمل کروا رہے ہوتے ہیں جو معجزہ کا باعث بنتے ہیں ۔
نتیجا مرید محتاج ہی رہتا ہے رہنمائی کا، دعا کا اور پیر آسمان کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے۔ وہ بت بنا سکتا ہے، مذہب بنا سکتا ہے اسکے قانون بنا سکتا ہے اور ان پر عمل کروا سکتا ہے، وہ نیتوں کو جان سکتا ہے، ایمان کے فیصلے کر سکتا ہے، وہ مہر کر سکتا ہے کسی کے کفر اور ایمان پر، اور یہ لامحدود اختیارات اسے لوگوں کی کم علمی، کمزور عقائد اور قدرت یا فطرت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے حاصل ہو جاتے ہیں اور یوں وہ( پیر، رہنما) اپنا خدا خود ہو جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو تو آخرت اور خدا خوفی کی تلقین کرتا نطر آتا ہے مگر جانے کیوں وہ خود اس خوف سے آزاد دکھائی دیتا ہے؟

ایسے حال میں کوئی ملحد ( بے ایمان ) خدا کو تلاش بھی کرے تو کہاں کرے۔ وہ خدا کو ان ڈبوں میں ڈھونڈے جو مختلف راسخ العقیدہ گروہوں کے ڈبے ہیں، جن میں سے ہر ایک کا یہ دعوٰی ہے کہ خدا اس کے ڈبے میں سب سے اچھا دکھتا ہے یا وہ اس کائنات میں اسی کائنات کے خالق کو دیکھے، اسے محسوس کرئے، ہر رنگ میں ، خوشبوؤں میں ، ہر جاندار میں ، ہر قوم میں ، ہر انسان میں ، ہر بدلتی رت میں ، ہر بدلتے موسم میں ، بارش کے ہر قطرے میں ، قوس و قزح کے سب رنگوں میں ، بادلوں میں ، تاروں میں ، سورج میں ، چاند میں ، کہکشاؤں میں ، باریک سے باریک ذرے میں نہاں در نہاں ، کہ چمکتے سورج کی چلچلاتی دھوپ اور آنکھوں کو چندھیا دینے والی شعاعوں میں یا کہ روز بروز پھیلتی ہوئی کائنات میں ۔۔۔؟
وہ جو ہر شے ہر ذرے کے وجود کا باعث ہے، قائم بذات ہے اور قائم رکھنے والا بھی ہے۔۔۔وہ کسی ایک ڈبے میں کہاں سما سکتا ہے۔۔؟
قابل افسوس بات یہ ہے کہ انبیاء علیہ السلام کے بعد ہر مذہب ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے جو یہی رحجان رکھتے ہیں یعنی عوام الناس کو مذہب کے نام پر غلام بنا کر رکھنا جسے ایک طرح کی بت پرستی ہی کہا جا سکتا ہے۔ مذہب پر قبضہ کرنے والے یہ لوگ ہمیشہ سے لوگوں پر حکومت کرتے آئے ہیں اور کرتے رہنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انبیاء علیہ السلام ہمیشہ ایسی ہی بت پرستی کو ختم کرنے آئے مگر طاقت کا حصول اور سادہ لوح عوام کو محکوم رکھنے کے لیے مذہب کی تشریحات کو بدلا جاتا رہا اور حسب ضرورت معنی و مفہوم اخذ کر کے لوگوں کو مذہبی غلامی میں جکڑا جاتا رہا، جب جب کسی نے رائج الوقت تشریحات سے اختلاف کیا اس کو نہ صرف سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بعض اوقات جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ۔تاریخ کے بے شمار صفحات ایسے ہی افراد کے خون سے رنگین ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس نے اس کائنات میں اس قدر اختلاف رکھا ہے کیا وہ اختلاف کو ناپسند بھی کر سکتا ہے ۔۔۔؟
وہ اختلاف کو ناپسند کیسے کر سکتا ہے جبکہ زندگی کا حسن diversity میں ہی ہے۔ اس پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تمام مذاہب اسی نے بنی نوع انساں کی ہدایت کے لئے بھیجے،پھر بھیجنے والا اپنی ہی تخلیق میں نفرت کا بیج کیوں بوئے گا؟ دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مصور اپنی بنائی ہوئی ہر تصویر سنبھال کر رکھتا ہے تو پھر جس کو ہم اس کائنات کا مصور مانیں وہ ان صفات سے عاری ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ نفرت اور فساد فطرت کی تعلیم نہیں خالق کائنات کی بھی تعلیم نہیں، یہ اس مٹی کے بت کی بھی تعلیم نہیں جس کو انسانی ہاتھوں سے تراشا گیا ہو ۔ یہ تعلیم ہے تو اس انسان کی ہی ہے جس نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر در پردہ اپنے قبیلے کے لوگوں پر حکومت کرنا چاہی۔ یہ طریقہ اتنا آسان اور کار آمد ثابت ہوا کہ دیکھتے دیکھتے ملکوں ملکوں پھیل گیا۔یوں زندگی کے دروازے بہت سوں پر کبھی تنگ تو کبھی بند ہوتے رہے، یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔
حالانکہ مذہب، فرقہ، عقیدہ، زبان، قومیت، مکتبہ فکر یا سوچ میں اختلاف باعث خوبصورتی بھی ہے اور باعث ترقی بھی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اختلاف کو ختم کرنے کے بجائے اختلاف کرنے کا سلیقہ سیکھیے اور سکھائیے، اختلاف میں ہی حسن ہے، اختلاف کی قدر کیجئے، اختلاف سے بھی محبت کیجئے۔

شکریہ

Posted in شاعری

روشنی کا انکار، آخر ہوگا کتنی بار

روشنی کا انکار
آخر ہوگا کتنی بار
اندھیروں پر ہی اصرار
آخر ہوگا کتنی بار
جانتے ہو تم، مانتے ہو تم
حق کو بھی پہچانتے ہو تم
جھوٹ سے کرنا پھر بھی پیار
آخر ہوگا کتنی بار
کیوں تم بھول جاتے ہو
تاریخ کو دہراتے ہو
فرعونوں سے یہ اطوار
آخر ہوگا کتنی بار
آج جو بو گے کل کاٹو گے
کھودے جو گڑھے ہیں انہی میں گرو گے
اپنی کوتاہیوں کا انکار
آخر ہوگا کتنی بار
نفرت کو نہ سنگھی بناؤ
مذہب کو مت بیچ میں لاؤ
پیار کے بھی کچھ دیپ جلاؤ
پیر پہ اپنے ہی کرنا وار
آخر ہوگا کتنی بار
تھک جاؤ گے، ہار جاؤ گے
ریت کو مٹھی میں بھر نہ پاؤ گے
رسوائیوں کے مت پہنو ہار
آخر ہوگا کتنی بار

پاکستان میں ڈاکٹر عبدالسلام کے عقیدے کی بنیاد پر ایک بار پھر سے شروع ہونے والی بحث اور اس کے نتیجے میں ڈاکٹر سلام کے نوبل پرائز اور خدمات سے انکار اور انکی شخصیت کو متنازعہ بنانے کی کوششوں کے پس منظر میں لکھی گئی مختصر نظم

Posted in pencil

تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام (حصہ دوم)

میرا جسم میری مرضی اور "اپنا کھانا خود گرم کر لو” کے خلاف عرشی صاحبہ کی نظم کا جواب انکے ہی الفاظ میں تھوڑی سی ترمیم کے بعد پیش ہے ۔شاعرہ سے معذرت کے ساتھ ،تصویر کا اصل رخ ۔
ابن آدم، نفس امارہ کے مت بننا غلام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
یہ برترئ مرداں کے نعرے ہیں بالکل فضول
نہ کوئی بنیاد انکی، نہ کوئی پختہ اصول
سرکشی کی راہ سے مت کر انھیں ناداں قبول
تقدس چادر کو مت کر منہدم، کر احترام
آنکھ میں گر حیا نہ ہو، مرد ہے تیغ بے نیام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
عورت پاؤں کی جوتی کا ہے طعنہ واہیات

اور بھی بڑھ رہیں ہیں گھروں کی اس سے مشکلات

ہیں بہت پیارے خدا کو صابر و صالح و قانع
وصف ایسے ہوں تو قائم رہے امن کائنات
چھوڑ یہ رسم و رواج ، قرآن کا بھی پڑھ پیام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
اپنا کھانا خود گرم کر لو تو کیا حرج ہے
خیرکم لاهله ہوں اطوار تو گھر جنت ہے
محو حیرت ہوں، یہ برتری کی کیسی پیاس ہے؟
جس پہ قربان، چاہت و قربت کا ہر احساس ہے
کھو رہا ہے ابن آدم آج تو اپنا مقام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
صورت امواج جو اٹھتی رہیں ظلمتیں یہاں
ان گنت فتنے تھے ان میں، ،ان گنت رسوائیاں
زندگی میں گھول رہی ہیں یہ پیارے تلخیاں
زہر ہیں پر دور سے لگتی ہیں جام ارغواں
ایسے ہر ” کلچر ” کو تو دور سے کر سلام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
ہیں بہت سے مرد جن میں ہے خوئے بندگی
ان پہ بےباکی سے مت وا کر در شرمندگی
بےحیائی ہے سراسر، بدنمائی، گندگی
گھر میں بیٹھی ہو یا باہر ہو، عورت کا نہ کر جینا حرام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
Posted in pencil

تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام (حصہ اول)

آدم اور حوا کے بیٹوں کے نام ایک پیغام ۔
یہ پیغام وہ منظر کشی کرنے سے قاصر ہے جو ابن آدم کے احساس برتری کی بدولت ہر دور میں بنت حوا سہتی آئی ہے اور سہتی چلی جا رہی ہے ۔میں ان آہوں اور سسکیوں کو لفظوں میں ڈھالنے سے قاصر ہوں جو کل بھی اور آج بھی زندہ دفنا دی جاتی ہیں تو کہیں عزت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ میں ان ننھی کلیوں کا ذکر کیسے کروں جو کھلنے سے پہلے ہی مسل کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی جاتی ہیں، ان حسین چہروں اور خواب دیکھتی آنکھوں کو سوچوں جو تیزاب سے جھلسائے گئے، میں ان صداؤں کو کیسے دفناوں جو زندہ جلا دی جاتی ہیں اور بازگشت بن کر سنائی دیتی ہیں۔
خواب مرتے نہیں، خواب مٹائے جاتے ہیں
خواب تو زندگی ہیں، زندگی کو چھینا جاتا ہے
کبھی یہ وجہ کبھی وہ وجہ، عورت کی زندگی مرد کی رضا کے رحم و کرم پر ہی کیوں ہے؟ جس کو زندگی خدا نے دی ہو اسکی زندگی لینے کا حق مرد کو کس نے دیا ہے؟ اور جو زندہ ہیں وہ ہر روز کیوں مرتی ہیں؟ عزت اور شرافت کے نام پر ہر ظلم کیوں سہتی ہیں؟ مرد کی بےقابو ہوس کا نشانہ بنتی ہیں مگر وہ بول نہیں سکتیں کیونکہ جب وہ بولیں تو انکو تمغہ "عزت و شرافت "مردوں کے معاشرے سے نہیں ملتا بلکہ ایسی خواتین کو مزید کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، واہیات اور نازیبا باتیں سننی پڑتی ہیں۔ یہ وہ "مردوں کا معاشرہ” ہے جہاں مرد راہ چلتی عورت کو چھیڑ سکتا ہے، چھو سکتا ہے، اسکا پیچھا کر سکتا ہے، مڑ مڑ کر دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی عجوبہ ہو اور پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو ۔
وہ مردوں کا معاشرہ جہاں عورت گھر سے باہر نکلے تو چاہے برقعہ میں ہی کیوں نہ ہو وہ ہراساں کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے۔اور ایسے ایسے طریقوں سے مرد اپنی مردانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ بیان سے باہر ہے ۔ ایسے مردوں کا لباس بھی ان کی بے حیائی اور ننگ کو چھپا نہیں سکتا ۔
جو طرز عمل عمومی طور پر مردوں کا معاشرے میں ہے اس سے لگتا ہے عزت اور حیا کا مردانگی سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، مردانگی اور ہوس ایک ہی سکے کے دو رخ لگتے ہیں۔
عورت کو پردے کی تلقین کرنے والے اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو اچھا ہے کہ جب تک مردوں کو حیا اور نفس پر قابو کرنا نہیں سکھایا گیا تب تک کوئی عورت ،بچی یا بچہ محفوظ نہیں ،نہ ہی گھر میں نہ گھر سے باہر ۔چادر اور چار دیواری، عزت، غیرت یہ سب ان لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں جو اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔ وہ اخلاقیات کی ہر حد کو پار کرتے ہیں اور مکمل آزادی چاہتے ہیں۔
عورت کو پردے کی تلقین کرنے والے قرآن مجید میں مردوں کو دئیے گئے اس حکم کو کیسے بھول جاتے ہیں کہ غض بصر سے کام لو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ۔
حدود اگر عورت پر لاگو ہوتی ہیں تو حدود مرد پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جو حدود مرد پر لاگو ہوتی ہیں ان کو بھی بیان کیا جائے۔ ان کا بھی پرچار کیا جائے، مردوں کو اپنے نفس پر کنٹرول کرنا سکھایا جائے، بے محابہ جانوروں کی طرح ہوس سے پر ہونا مردانگی نہیں۔ مردانگی نام ہے سیلف کنٹرول کا، وقار کا، حیا کا۔ اعلی اخلاق، اعلی کردار، پاک کلام، پاک خیال، عورت کا احترام، صابر و صالح ہونا ہی مردانگی ہے۔
حیا صرف عورت کا زیور نہیں مرد کا بھی وصف ہے ۔صرف بدن پر کپڑا پہنے سے ننگ نہیں چھپتا جب تک حیا نہ ہو۔ اے ابن آدم اپنے ننگ کو ڈھانک!حیا اختیار کر یہی مردانگی ہے۔