Posted in pencil

اک تماشا ہے اور کب سے جاری ہے

حدیث میں ہے کہ تخلقو بأخلاق اللہ
اپنے تئیں اللہ تعالٰی کے اخلاق اور صفات سے مزین کرو۔
یعنی خالق کی صفات اپناؤ اور اسکے رنگ میں رنگ جاؤ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان خالق کی پیدا کردہ مخلوق سے نفرت کرئے، تعصب کرے اور انکو دکھ پہنچائے۔
اگر وہ اپنے رب کی صفات اپنائے گا تو لازما ایک نافع الناس وجود بن جائے گا۔ یہی اسلام کی حقیقی تعلیم کا ماخذ ہے کہ عباد الرحمن بنایا جائے۔کیا خوبصورت تعلیم تھی اور کیا حشر کر دیا گیا اس کا،جو کبھی ظلم کو مٹانے کا باعث تھی اور آج یہی اسلام کی تعلیم تشریحات بدل بدل کر ظلم کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔نہایت ہی افسوسناک بات یہ ہے کہ مذہب کے نام پر نفرت کا پرچار ہو، عبادت گاہیں مسمار کی جائیں، لوگوں کے گھر جلائے جائیں،جان سلامت نہ رہے، بلکہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں توہین کا الزام لگا کر قتل کر دینا کوئی بڑی بات نہ رہے، اس پر ظلم یہ کہ اسطرح کے قاتلوں کا دفاع کرنے والے قتل پر احتجاج کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہوں اور مذہبی جماعتوں کے علماء بھی کہلاتے ہوں۔ ایسے معاشروں میں کسی بھی باضمیر انسان کا محفوظ رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یا تو اسے خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے یا ہجرت اسکا مقدر بنتی ہے۔ یہ خون کے پیاسے معاشرے خود ہی ایک دوسرے کا خون پی پی کر دم توڑ جاتے ہیں لیکن اس وقت تک جو نقصان ہو چکا ہوتا ہے اسکی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ کئی بے گناہ جان سے جاتے اور کتنے گھروں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں۔۔۔جن پر گزرتی ہے وہی جانتے ہیں۔ انکے دکھ اور نقصان کا ازالہ مذمت یا افسوس کے اظہار سے کہاں ممکن ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا یہاں کوئی بھی رجل رشید نہیں جو اس ظلم و بربریت کو روک سکے جو مذہب کے نام پر ہو رہا ہے۔
آخر ایسا بھی کیا کہ کوئی لیڈر حق و انصاف کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا؟ اس کو حکمرانوں اور سیاست دانوں کی منافقت کہا جائے کہ مظلومیت؟ مذہب کے نام پر بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ظلم کے قانون بنا کر یہ بات کہنا کہ سب برابر ہیں، سب کو حقوق حاصل ہیں، یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ ایک طرف مذمتی بیان دینا دوسری طرف صفائی دینا کہ قانون میں تبدیلی نہ ہوگی؟ انسان کا بنایا ہوا قانون قرآن کریم سے زیادہ افضل تو نہیں ہے۔ قرآن مجید کی بھی بے شمار تفسیریں کی گئی ہیں پر انسان کے بنائے ہوئے قانون پر بات بھی نہیں ہو سکتی۔۔؟ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ قانون کلارجی کو تحفظ اور طاقت فراہم کرتا ہے، لہذا اسکے تحفظ کا شور مولوی اسی لئے مچاتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ اختیار انکے ہاتھ سے جائے اور وہ عوام کو کسی صورت بھی جوابدہ ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ سب مل کر بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قانون(بلاسفیمی لا، احمدیہ آرڈیننس) کے تحفظ پر زور دیتے ہیں اور معاشرے میں خوف کی فضا قائم رکھتے ہیں اور سادہ لوح عوام اپنے مذہب کو ان بھیڑوں کے ہاتھوں دے کر یرغمال بن چکے ہیں۔ مثل مشہور بھول گئے کہ "نیم ملاں خطرہ ایمان ۔۔، یہاں تو سارا دین ہی نیم ملاں کے حوالے کر دیا گیا ہے جو نہ کوئی خاص تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں نہ ہی مذہبی تعلیمات پر صحیح عمل کرتے ہیں۔ آئے روز انکی بدکاریوں کے قصے اخبارات میں چھپتے ہیں، مگر یہ بےضمیر دین فروش مذہب کے نام پر خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب باشعور طبقہ خوف اور جرآت کی ملی جلی کیفیت میں ہے۔ان کی مکمل بیداری تک ملک و قوم کا جانے کیا حال ہو۔ بہرحال یہ ایک المیہ ہے کہ آجکل کے ملاں بد زبانی میں اول نمبر پر ہیں۔جب اپنے عقیدت مندوں میں تقریریں کرتے ہیں تو انکی گالیوں اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو پر بلند ہوتے نعرے کسی بھی شریف النفس انسان کا سر شرم سے جھکا دیتے ہیں، جبکہ انکے مداح جھوم جھوم کر داد دے رہے ہوتے ہیں۔حالانکہ ان علماء کے اعمال اسلامی تعلیمات سے واضح طور پر متصادم نظر آتے ہیں،اس کے باوجود وہ لوگوں کو اپنی انگلیوں پر پتلیوں کی طرح نچاتے نظر آتے ہیں کیونکہ کسی میں اتنی جرآت نہیں کہ وہ ان سے زیادہ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود نام نہاد علماء کو کہہ سکے کہ یہ میرا بھی مذہب ہے اور میں اسکو آپ سے بہتر سمجھ سکتا ہوں، بلاسفیمی نہ ہو جائے گی۔۔۔شیطان سے ڈرنا جو سکھایا ہے سو ڈرتے رہیں گے،بچتے رہیں گے مگر آخر کب تک۔۔۔؟

اک خونی تماشا ہے جو کب سے جاری ہے،

انسانیت کی تذلیل مستقل کی جا رہی ہے،

مذہب کے نام پر اک فساد برپا ہے،

طاقت کے حصول میں ملا آدمیت سے عاری ہے۔۔۔۔!!

Advertisements
Posted in pencil

علم حاصل کرو محد سے لحد تک

جو قومیں ترقی کرتی ہیں انکے بزرگ بھی نوبل پرائز حاصل کرتے ہیں اور ہمارے بزرگ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ہمارے معاشرے میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ 40 سال کے بعد کچھ یاد نہیں رہتا جبکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو "رب زدنی علما ” کی دعا 40 کے بعد ہی سکھائی گئی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” علم حاصل کرو محد سے لے کر لحد تک ”
حیرت کی بات ہے کہ ہم اسلام کو دین کامل مانتے ہیں مگر اسکی بعض تعلیمات کو قابل عمل نہیں سمجھتے، ہمارا طرز زندگی، سوچ اور رویے اس بات کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں۔مذہب کے تقدس کے لیے جان دینے اور لینے سے گریز نہ کرنے والے اگر مذہب کو دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے مذہب کے حقیقی مقصد کو سمجھیں جو کہ صرف زندگی کو رواں اور بامقصد بنانے اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے، اور اس سے بڑھ کر اس کائنات کی سب سے عظیم طاقت سے جو کہ خالق کائنات ہے انسان کو connect کرنے کے لیے تا وہ خود کو بھی پہچانے اور مثبت راہ پر چلتے ہوئے منفی اثرات سے بچتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرئے۔کیونکہ منفی سوچ ہی شیطانیت ہے۔ پس اگر ہم مثبت سوچ سے آگے بڑھیں اور مثبت عمل کریں تو صراط مستقیم پر ہی چلیں گے اور کبھی نقصان نہیں اٹھیں گے بلکہ روحانی طور پر بھی مظبوط ہونگے۔یہی آخرت کی تیاری ہے اور موت کے بعد کا نتیجہ بھی۔

 

2017-10-09 09.08.51

Posted in pencil

رنگ لے اپنے رنگ میں

روشنی دے
ثبات دے
مرا حرف حرف
نکھار دے
تجھے میری آنکھ سے
دیکھ سکیں
قرینے مرے سنوار دے
جو رنگ ہیں تیرے
انھیں میں رنگ دے
میرے کچے رنگ اتار دے
مرے ذرہ ذرہ وجود میں
نور اپنا ڈھیروں اتار دے
نہ رہے کوئی میل نہ کسل باقی
مری روح کو ایسا اجال دے
یہی آرزو ہے کہ یہ نفس میرا
اسے نفس مطمئنہ میں ڈھال دے
تو ہی میرا پریم تو ہی پریت ہو
مجھے اپنے ہاتھوں سنوار دے

Posted in pencil

زندہ رہنے دو۔۔!

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کمزور لوگوں کو طاقتور لوگ زندہ ہی درگور کر دیتے ہیں۔ ایک انسان کو مارنے کے لیے ہتھیار کی ضرورت نہیں ہوتی اسکے بولنے، سوچنے اور اپنے طرز سے زندگی کو جینے کے سارے رستے بند کر دینا ہی اسکی موت ہے۔ پھر چاہے اسے محل میں بٹھا دو یا فرش پر، وہ ایک زندہ لاش ہوجاتا ہے۔۔۔اور لاشوں سے زندگی نہیں پھوٹتی۔۔۔!!

Posted in pencil

سانچ کو نہیں آنچ

سچ کا سورج وہ
چھپانا چاہتے ہیں
بادلوں کی صورت وہ
آنا چاہتے ہیں
جانتے ہیں کہ سانچ کو نہیں آنچ
پھر بھی
بلبلے جھوٹ کے وہ
اڑانا چاہتے ہیں
گھول کر میٹھے گھڑے میں
جھوٹ کی کالک
پانی اسکا سب کو وہ
پلانا چاہتے ہیں
جانے کس بات کا گماں ہے انکو
انجام جھوٹ کا وہ
بھلانا چاہتے ہیں
کب تلک چلے گا کھیل انکا
طول کچھ اور وہ
دلانا چاہتے ہیں
دے نہیں سکتے دھوکہ وہ
کسی کو، مگر
خود فریبی میں زندگی وہ
بیتانا چاہتے ہیں
توڑ دے جھوٹ کے سب سحر مولا
اب ہم اس باطل کو بھگانا چاہتے ہیں

Posted in pencil

سخن

احساس جس سے آشنا ہے
بات وہ ناقابل بیان ہے
لفظوں کی زنبیل سے بھی
کچھ نہ مل پایا ہے
اک ہی صورت ہے باقی
لفظ کوئی الہام کرے
تا کہ سخن کلام کرے

Posted in pencil

پاگل نے جب چاند پہ تھوکا

آجکل بلاسفیمی ایشو پریشان کن صورتحال اختیار کر گیا ہے۔کئی بے گناہ ہجوم کے ہاتھوں بیہیمانہ قتل ہوئے اور کچھ سالوں سے جیل کی کال کوٹھری میں بند ہیں مگر انکا باہر آنا ممکن نظر نہیں آتا گویا وہ زندہ ہی درگور کر دیے گئے ہیں۔ بلاسفیمی کا الزام ہی کسی کی جان لینے کے لیے کافی ہے نہ ثبوت نہ تحقیق کی ضرورت،کیونکہ ہمارے ملک کا قانون اسکی سزا موت سناتا ہے سو کسی کی جان لینے کا آسان ترین طریقہ لوگوں کے ہاتھ آ گیا ہے، بندر کے ہاتھ میں بندوق ہو جیسے۔

مانا کہ ہر چیز کی حد ہوتی ہے مینرز اور ایٹیکیٹ ہوتے ہیں لیکن اگر کچھ لوگوں میں اخلاق کا معیار پست ہو اور وہ کوئی ایسی غلطی کر ہی بیٹھے تو کیا انکو اس بات پر سزا ملنی چاہئے؟ جبکہ سب ہی جانتے ہیں کہ جو شخص کسی کی ہتک کرتا ہے یا گالی دیتا ہے تو وہ دراصل اپنا کردار دکھا رہا ہوتا ہے۔
پھر یہ کہ اس بات پر اتفاق کیسے ہو کہ گستاخی کیا ہے؟

اسکی حد کیا ہے؟

کس بات کو گستاخی سمجھا جائے کس کو نہیں؟
انگریزوں نے جو قانون بنایا تھا وہ یہی تو تھا کہ کسی کے مذہبی پیشوا کی ہتک نہ کی جائے۔تو کیا اسکا نتیجہ ہم دیکھ نہیں رہے؟ یہ قانون تو ناکام ہو گیا ہے ۔
آج کوئی بھی کسی بھی بات پر کسی کو بھی گستاخی کا الزام لگا کر یا تو سالوں تک جیل میں بند کروا سکتا ہے یا لوگوں کے ہاتھوں بیہیمانہ قتل کروا سکتا ہے ۔
گلی محلوں میں ذاتی انتقام لینے کے لیے بھی اب یہی گستاخی ہتھیار کہ طور پر استعمال ہو رہی ہے ۔
ایسی صورت حال میں ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھنا چاہیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بڑھیا کی عیادت کرنے گئے جو روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا پھینکا کرتی تھی،

طائف میں لہو لوہان۔۔۔۔ خون سے بھرے جوتے۔۔۔۔۔ اور آپﷺ انکی تباہی کی بد دعا تک نہیں کرتے۔

جب کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز پڑھتے ہوئے اوجھڑی ڈال جاتے تھے تو کیا یہ سب گستاخیاں نہیں کہلاتیں؟

کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا ایمان اتنا کمزور تھا کہ وہ یہ سب برداشت کر لیتے تھے؟ کجا یہ کہ صدیوں بعد کوئی اگر کم فہمی یا لا علمی میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یا کسی بزرگ پر کوئی غلط بات کر دے تو ہم زیادہ ایمان والے ہیں کہ اسکا سر قلم کرنے یا سزا دلوانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں؟
ایسے حملوں اور بد زبانیوں کا جواب قلم سے دیں نہ کہ سر قلم کرنے سے۔

زندگی خدا نے دی ہے اسےاسطرح ختم کرنا کیا خدا کی گستاخی کرنا نہیں؟

یہ تو خدائی اپنے ہاتھ میں لینا ہوا۔
اسلام کی تعلیمات پر عمل کرکے اپنے عمل سےجواب دیں ۔
بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرکے اپنے کردار سے جواب دیں ۔
جب دل دکھی ہوں ایسی بد زبانیوں سے تو دعا کا ہتھیار استعمال کریں ۔
غیر مسلموں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں تاکہ وہ جان سکیں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ۔
جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں قصور کہیں نہ کہیں ہمارا بھی ہے۔اگر اسلامی ممالک اور مسلمان اسلام کی تعلیمات پر صحیح طور پر عمل کرتے تو ایسے حملے کرنے والے اپنے منہ کی کھاتے ۔
پہلے تو مسلمانوں کو ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہے نہ کہ دوسروں سے مطالبہ شروع کر دیں ۔
اسکا حل یہی ہے کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں۔قرآن کریم میں تو کہیں گستاخی کی سزا مقرر نہیں ہے نہ ہی قرآن مجید سے کوئی ایسی ہدایات ملتی ہیں کہ انبیاء علیہم السلام یا مذہب کو برا بھلا کہنے سے دین کی یا انبیاء کرام کی کوئی ہتک ہوتی ہے ۔
یہ تو ایسے ہی ہے کہ

اپنا منہ ہی کر لیا گندا
پاگل نے جب چاند پہ تھوکا

حیرت تب ہوتی ہے جب ایسے پاگلوں کی جان لینے کو لوگ باولے ہونے لگیں۔ایسے پاگل کو پتھر مارنا یا جیل میں بند کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
جواب دینا ہے تو عمل سے دیں ۔
کردار سے دیں ۔
قلم سے دیں ۔
دعا سے دیں ۔
قرآن کریم تو سکھاتا ہے
لکم دینکم ولی الدین
تمہارے لیے تمہارا دین، میرے لیے میرا دین ۔
اور یہ بھی تو قرآن کریم میں ہے (مفہوم ) جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو ۔۔۔اور اگر کوئی وسوہ پہنچے تو اللہ کی پناہ طلب کرو۔پھر تم صاحب بصیرت ہو جاؤ گے۔
یہی تعلیم ہے اس پر عمل کرنے کی ضرورت بھی ہے اور فرض بھی یہی ہے۔قتل اور فساد بہرحال اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبر و دعا ہی سکھاتا ہے۔

وہ اِحسان کا اَفسوں پھونکا،موہ لیا دل اپنے عدو کا
کب دیکھا تھا پہلے کسی نے،حسن کا پیکر اس خوبو کا

نخوت کو ایثار میں بدلا،ہر نفرت کو پیار میں بدلا
عاشق جان نثار میں بدلا،پیاسا تھا جو خار لہو کا

توڑ دیا ظلمات کا گھیرا،دُور کیا ایک ایک اندھیرا
جَاءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِل٭ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقا