Home

Posted in pencil

روشنی کا انکار، آخر ہوگا کتنی بار

روشنی کا انکار
آخر ہوگا کتنی بار
اندھیروں پر ہی اصرار
آخر ہوگا کتنی بار
جانتے ہو تم، مانتے ہو تم
حق کو بھی پہچانتے ہو تم
جھوٹ سے کرنا پھر بھی پیار
آخر ہوگا کتنی بار
کیوں تم بھول جاتے ہو
تاریخ کو دہراتے ہو
فرعونوں سے یہ اطوار
آخر ہوگا کتنی بار
آج جو بو گے کل کاٹو گے
کھودے جو گڑھے ہیں انہی میں گرو گے
اپنی کوتاہیوں کا انکار
آخر ہوگا کتنی بار
نفرت کو نہ سنگھی بناؤ
مذہب کو مت بیچ میں لاؤ
پیار کے بھی کچھ دیپ جلاؤ
پیر پہ اپنے ہی کرنا وار
آخر ہوگا کتنی بار
تھک جاؤ گے، ہار جاؤ گے
ریت کو مٹھی میں بھر نہ پاؤ گے
رسوائیوں کے مت پہنو ہار
آخر ہوگا کتنی بار

پاکستان میں ڈاکٹر عبدالسلام کے عقیدے کی بنیاد پر انکے نوبل پرائز اور خدمات سے انکار اور ایک بار پھر سے شروع ہونے والی بحث کے تناظر میں لکھی گئی مختصر نظم

Advertisements
Posted in pencil

تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام (حصہ دوم)

میرا جسم میری مرضی اور "اپنا کھانا خود گرم کر لو” کے خلاف عرشی صاحبہ کی نظم کا جواب انکے ہی الفاظ میں تھوڑی سی ترمیم کے بعد پیش ہے ۔شاعرہ سے معذرت کے ساتھ ،تصویر کا اصل رخ ۔
ابن آدم، نفس امارہ کے مت بننا غلام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
یہ برترئ مرداں کے نعرے ہیں بالکل فضول
نہ کوئی بنیاد انکی، نہ کوئی پختہ اصول
سرکشی کی راہ سے مت کر انھیں ناداں قبول
تقدس چادر کو مت کر منہدم، کر احترام
آنکھ میں گر حیا نہ ہو، مرد ہے تیغ بے نیام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
عورت پاؤں کی جوتی کا ہے طعنہ واہیات

اور بھی بڑھ رہیں ہیں گھروں کی اس سے مشکلات

ہیں بہت پیارے خدا کو صابر و صالح و قانع
وصف ایسے ہوں تو قائم رہے امن کائنات
چھوڑ یہ رسم و رواج ، قرآن کا بھی پڑھ پیام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
اپنا کھانا خود گرم کر لو تو کیا حرج ہے
خیرکم لاهله ہوں اطوار تو گھر جنت بنے
محو حیرت ہوں، یہ برتری کی کیسی پیاس ہے؟
جس پہ قربان، چاہت و قربت کا ہر احساس ہے
کھو رہا ہے ابن آدم آج تو اپنا مقام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
صورت امواج جو اٹھتی رہیں ظلمتیں یہاں
ان گنت فتنے تھے ان میں، ،ان گنت رسوائیاں
زندگی میں گھول رہی ہیں یہ پیارے تلخیاں
زہر ہیں پر دور سے لگتی ہیں جام ارغواں
ایسے ہر ” کلچر ” کو تو دور سے کر سلام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
ہیں بہت سے مرد جن میں ہے خوئے بندگی
ان پہ بےباکی سے مت وا کر در شرمندگی
بےحیائی ہے سراسر، بدنمائی، گندگی
گھر میں بیٹھی ہو یا باہر ہو، عورت کا نہ کر جینا حرام
تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام
Posted in pencil

تجھ پہ لازم ہے تری مردانگی کا احترام (حصہ اول)

آدم اور حوا کے بیٹوں کے نام ایک پیغام ۔
یہ پیغام وہ منظر کشی کرنے سے قاصر ہے جو ابن آدم کے احساس برتری کی بدولت ہر دور میں بنت حوا سہتی آئی ہے اور سہتی چلی جا رہی ہے ۔میں ان آہوں اور سسکیوں کو لفظوں میں ڈھالنے سے قاصر ہوں جو کل بھی اور آج بھی زندہ دفنا دی جاتی ہیں تو کہیں عزت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ میں ان ننھی کلیوں کا ذکر کیسے کروں جو کھلنے سے پہلے ہی مسل کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی جاتی ہیں، ان حسین چہروں اور خواب دیکھتی آنکھوں کو سوچوں جو تیزاب سے جھلسائے گئے، میں ان صداؤں کو کیسے دفناوں جو زندہ جلا دی جاتی ہیں اور بازگشت بن کر سنائی دیتی ہیں۔
خواب مرتے نہیں، خواب مٹائے جاتے ہیں
خواب تو زندگی ہیں، زندگی کو چھینا جاتا ہے
کبھی یہ وجہ کبھی وہ وجہ، عورت کی زندگی مرد کی رضا کے رحم و کرم پر ہی کیوں ہے؟ جس کو زندگی خدا نے دی ہو اسکی زندگی لینے کا حق مرد کو کس نے دیا ہے؟ اور جو زندہ ہیں وہ ہر روز کیوں مرتی ہیں؟ عزت اور شرافت کے نام پر ہر ظلم کیوں سہتی ہیں؟ مرد کی بےقابو ہوس کا نشانہ بنتی ہیں مگر وہ بول نہیں سکتیں کیونکہ جب وہ بولیں تو انکو تمغہ "عزت و شرافت "مردوں کے معاشرے سے نہیں ملتا بلکہ ایسی خواتین کو مزید کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، واہیات اور نازیبا باتیں سننی پڑتی ہیں۔ یہ وہ "مردوں کا معاشرہ” ہے جہاں مرد راہ چلتی عورت کو چھیڑ سکتا ہے، چھو سکتا ہے، اسکا پیچھا کر سکتا ہے، مڑ مڑ کر دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی عجوبہ ہو اور پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو ۔
وہ مردوں کا معاشرہ جہاں عورت گھر سے باہر نکلے تو چاہے برقعہ میں ہی کیوں نہ ہو وہ ہراساں کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے۔اور ایسے ایسے طریقوں سے مرد اپنی مردانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ بیان سے باہر ہے ۔ ایسے مردوں کا لباس بھی ان کی بے حیائی اور ننگ کو چھپا نہیں سکتا ۔
جو طرز عمل عمومی طور پر مردوں کا معاشرے میں ہے اس سے لگتا ہے عزت اور حیا کا مردانگی سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، مردانگی اور ہوس ایک ہی سکے کے دو رخ لگتے ہیں۔
عورت کو پردے کی تلقین کرنے والے اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو اچھا ہے کہ جب تک مردوں کو حیا اور نفس پر قابو کرنا نہیں سکھایا گیا تب تک کوئی عورت ،بچی یا بچہ محفوظ نہیں ،نہ ہی گھر میں نہ گھر سے باہر ۔چادر اور چار دیواری، عزت، غیرت یہ سب ان لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں جو اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔ وہ اخلاقیات کی ہر حد کو پار کرتے ہیں اور مکمل آزادی چاہتے ہیں۔
عورت کو پردے کی تلقین کرنے والے قرآن مجید میں مردوں کو دئیے گئے اس حکم کو کیسے بھول جاتے ہیں کہ غض بصر سے کام لو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ۔
حدود اگر عورت پر لاگو ہوتی ہیں تو حدود مرد پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جو حدود مرد پر لاگو ہوتی ہیں ان کو بھی بیان کیا جائے۔ ان کا بھی پرچار کیا جائے، مردوں کو اپنے نفس پر کنٹرول کرنا سکھایا جائے، بے محابہ جانوروں کی طرح ہوس سے پر ہونا مردانگی نہیں۔ مردانگی نام ہے سیلف کنٹرول کا، وقار کا، حیا کا۔ اعلی اخلاق، اعلی کردار، پاک کلام، پاک خیال، عورت کا احترام، صابر و صالح ہونا ہی مردانگی ہے۔
حیا صرف عورت کا زیور نہیں مرد کا بھی وصف ہے ۔صرف بدن پر کپڑا پہنے سے ننگ نہیں چھپتا جب تک حیا نہ ہو۔ اے ابن آدم اپنے ننگ کو ڈھانک!حیا اختیار کر یہی مردانگی ہے۔
Posted in pencil

جب غاروں سے نکلا تو

اک وہ وقت بھی تھا جب انسان غاروں میں رہتا تھا
درندوں کے ڈر سے باہر نہیں نکلتا تھا
اور خود کو غاروں میں محفوظ سمجھتا تھا
پھر اس نے جانااپنی پوشیدہ طاقت کو
وحشی جانوروں کو مات وہ دے سکتا تھا
سو باہر نکلا، آباد کیا ویرانوں کو
مسکن بنایا کھلی فضاؤں میں
سب درندوں کو اس نے
جنگل تک محدود کیا
آزاد ہیں انساں
اور
قفس میں
محصور جانور
مگر یہ کیا …؟
آدمی کو آدمی سے ہی اب
ڈر لگتا ہے، خوف آتا ہے ،
محفوظ نہیں اک دوجے کے شر سے
آدمی ہی اب درندہ ہے،
آدمی ہی خونی بھیڑیا ہے
آدمی اپنے ہی بچے کھا رہا ہے
آدمی اپنے ہی لوگوں کے چیتھڑے اڑا رہا ہے
کل تک جو حضرت انساں تھا
آج وہی درندہ ہے
ڈر لگتا ہے خوف آتا ہے
جنگل کے جانوروں کو بھی اس سے
 یہی ہے جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے؟
Posted in pencil

استخارہ

دست سوال دراز مرا
مشکل جینا محال مرا
الجھنیں بے شمار
اور
عقدہ کشا صرف تیری ذات
منتظر کرامات ہوں
سکتاں،
لرزاں،
پریشان،
رب اغفر و رحم
مشکل کشا سوا ترے کوئی نہیں
چارہ گر دردوں، دکھوں کا
ترے سوا نہیں کوئی
ہر یاس میں آس مری
ہر طوفاں میں کنارا تو
تیرے در پہ ہی نظر ہے
کوئی اشارہ،
کوئی کنایہ،
ہو تو چلوں،
تری خاموشی ہے جیسے
گھپ اندھیرا
اندھیرے میں آگے کیسے بڑھوں…؟

Posted in pencil

مٹی کا بت

مٹی کا بت
انسان
طاقت کے نشہ میں مخمور
خود کو خدا سمجھ بیٹھا
جو ڈھیل ملی
وہ سمجھ نہ سکا
پھر یوں ہوا
اک بستی میں
مٹی کے خداؤں نے یارو!
طاقت کے نشے میں ڈوبتے ہوئے
قانون بنایا مذہب کا
ایمان کو پرکھیں
نیت کو ناپیں
مسلک کو جانچیں
دلوں میں جھانکیں
حلف لکھیں سب
تحریر کریں سب
مذہب کیا ہے؟
تشریح کیا کرتے؟
ایمان کیا ہے؟
نیت کیا رکھتے؟
پھر الگ دکھا جو ان میں سے
باہر کیا اسکو دائرے سے
وہ کہتے تھے
تم اپنا مذہب بتلاؤ
ہمارے مذہب کو نہ اپناؤ
توہین ہے یہ
ہم جیسی تشریح نہیں کرتے
پر مذہب ہمارا رکھتے ہو!
ہماری سوچ کو اپناؤ
ہماری تشریح پر ایمان لاؤ
ورنہ اسلامی شعائر نہ اپناؤ
کچھ جیل گئے کچھ جان سے گئے
خون بہا ان لوگوں کا
جو لا الہ اللہ ورد زبان رکھتے تھے
عشق محمد مصطفٰی ﷺ
دلوں میں ہر آن رکھتے تھے
اذان بند،
سلام بند،
ارکان بند،
قرآن بند،
زندگی ان پر تنگ کر دو
جو بھی انکا ساتھ دے
اسکو انھی کے سنگ کر دو
منکر ہے
کافر ہے
مرتکب توہین رسالت کا
واویلا ایسا کرو گویا
خون کے پیاسے ہو جاؤ
لب کھول نہ سکے
کوئی بول نہ سکے
خوف بٹھا دو گھر گھر میں
آگ لگا دو جگ جگ میں
مٹی کا بت
گو فانی تھا
پتھر دل ہوگیا
اور بھول گیا
ظلم صدا نہیں رہتا
وقت ایک سا نہیں رہتا
پھر وقت آئے گا
بت ٹوٹ گیا
ظالم کا بازو شل ہوگا
طاقت کا نشہ جب اترے گا
سب مٹی میں مل جائے گا
ہاتھ میں کچھ نہ آئے گا
انجام
جھوٹے خداؤں کا
فرعونوں اور
ہامانوں کا
ازل سے یہی ہوتا آیا ہے…!!

Posted in pencil

مہندی والے ہاتھ

دیوار میں چنوا دو
چہرے کو چھپا دو
آواز کو دبا دو
گھر میں ہی دفنا دو
اسکے مہندی والے ہاتھ
مردوں کو بہکاتے ہیں
یہ عورت ہے
اور اسکی عزت
نازک ریشم سے بھی زیادہ
ناقص العقل
باہر نکلے گی،دھوکہ کھائے گی
مردوں کو بہکائے گی
مکھی کی طرح
اس کے پیچھے پڑ جائیں گے
ڈھانک دو اس کو
یہ تو مرد کی میلی نظر سے ہی
میلی ہو جائے گی
نازک ہے بہت عزت اس کی
اس پر مہندی والے ہاتھ
اسکو زندہ ہی دفنا دو…!!