Home

Posted in pencil

استخارہ

دست سوال دراز مرا
مشکل جینا محال مرا
الجھنیں بے شمار
اور
عقدہ کشا صرف تیری ذات
منتظر کرامات ہوں
سکتاں،
لرزاں،
پریشان،
رب اغفر و رحم
مشکل کشا سوا ترے کوئی نہیں
چارہ گر دردوں، دکھوں کا
ترے سوا نہیں کوئی
ہر یاس میں آس مری
ہر طوفاں میں کنارا تو
تیرے در پہ ہی نظر ہے
کوئی اشارہ،
کوئی کنایہ،
ہو تو چلوں،
تری خاموشی ہے جیسے
گھپ اندھیرا
اندھیرے میں آگے کیسے بڑھوں…؟

Advertisements
Posted in pencil

مٹی کا بت

گیلی مٹی سے بنا
انسان
طاقت کے نشہ میں مخمور
خود کو خدا سمجھ بیٹھا
جو ڈھیل ملی
وہ سمجھ نہ سکا
پھر یوں ہوا
اک بستی میں
مٹی کے خداؤں نے یارو!
طاقت کے نشے میں ڈوبتے ہوئے
قانون بنایا مذہب کا
ایمان کو پرکھیں
نیت کو ناپیں
مسلک کو جانچیں
دلوں میں جھانکیں
حلف لکھیں سب
تحریر کریں سب
مذہب کیا ہے؟
تشریح کیا کرتے؟
ایمان کیا ہے؟
نیت کیا رکھتے؟
پھر الگ دکھا جو ان میں سے
باہر کیا اسکو دائرے سے
وہ کہتے تھے
تم اپنا مذہب بتلاؤ
ہمارے مذہب کو نہ اپناؤ
توہین ہے یہ
ہم جیسی تشریح نہیں کرتے
پر مذہب ہمارا رکھتے ہو!
ہماری سوچ کو اپناؤ
ہماری تشریح پر ایمان لاؤ
ورنہ اسلامی شعائر نہ اپناؤ
کچھ جیل گئے، کچھ جان سے گئے
خون بہا ان لوگوں کا
جو لا الہ اللہ ورد زبان رکھتے تھے
عشق محمد مصطفٰی ﷺ
دلوں میں ہر آن رکھتے تھے
اذان بند
سلام بند
ارکان بند
زندگی ان پر تنگ کر دو
جو بھی انکا ساتھ دے
اسکو انھی کے سنگ کر دو
منکر ہے
کافر ہے
مرتکب توہین رسالت کا
واویلا ایسا کرو گویا
خون کے پیاسے ہو جاؤ
لب کھول نہ سکے
کوئی بول نہ سکے
خوف بٹھا دو گھر گھر میں
آگ لگا دو جگ جگ میں
مٹی کا بت
گو فانی تھا
پتھر کا انساں بن گیا
اک وقت آئے گا
مٹی کا یہ بت ٹوٹے گا
ریزہ ریزہ بکھرے گا
مٹی جو ہے، مٹی میں ملے گی
بستی کو بھی خاک کر جائے گی
انجام
جھوٹے خداؤں کا
فرعونوں اور
ہامانوں کا
ازل سے یہی ہوتا آیا ہے…!!

Posted in pencil

مہندی والے ہاتھ

دیوار میں چنوا دو
چہرے کو چھپا دو
آواز کو دبا دو
گھر میں ہی دفنا دو
اسکے مہندی والے ہاتھ
مردوں کو بہکاتے ہیں
یہ عورت ہے
اور اسکی عزت
نازک ریشم سے بھی زیادہ
ناقص العقل
باہر نکلے گی،دھوکہ کھائے گی
مردوں کو بہکائے گی
مکھی کی طرح
اس کے پیچھے پڑ جائیں گے
ڈھانک دو اس کو
یہ تو مرد کی میلی نظر سے ہی
میلی ہو جائے گی
نازک ہے بہت عزت اس کی
اس پر مہندی والے ہاتھ
اسکو زندہ ہی دفنا دو…!!

Posted in pencil

اک تماشا ہے اور کب سے جاری ہے

حدیث میں ہے کہ تخلقو بأخلاق اللہ
اپنے تئیں اللہ تعالٰی کے اخلاق اور صفات سے مزین کرو۔
یعنی خالق کی صفات اپناؤ اور اس جیسے بن جاؤ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان خالق کی پیدا کردہ مخلوق سے نفرت کرئے، تعصب کرے اور انکو دکھ پہنچائے۔
اگر وہ اپنے رب کی صفات اپنائے گا تو لازما ایک نافع الناس وجود بن جائے گا۔ یہی اسلام کی حقیقی تعلیم کا ماخذ ہے کہ رحمان کا بندہ یعنی عباد الرحمن بنایا جائے۔
افسوس تب ہوتا ہے جب مذہب کے نام پر نفرت کا پرچار ہو۔ لوگوں کے گھر جلائے جائیں،جان سلامت نہ رہے، بلکہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں توہین کا الزام لگا کر قتل کر دینا کوئی بڑی بات نہ رہے، اس پر ظلم یہ کہ اسطرح کے قاتلوں کا دفاع کرنے والے قتل پر احتجاج کرنے والوں سے زیادہ ہوں اور مذہبی جماعتوں کے علماء بھی کہلاتے ہوں تو ایسے معاشروں میں کسی بھی باضمیر انسان کا محفوظ رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یا تو اسے خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے یا ہجرت اسکا مقدر بنتی ہے۔ یہ خون کے پیاسے معاشرے خود ہی ایک دوسرے کا خون پی پی کر دم توڑ جاتے ہیں لیکن اس وقت تک جو نقصان ہو چکا ہوتا ہے اسکی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ کئی بے گناہ جان سے جاتے اور کتنے گھروں کے چراغ گل ہو تے ہیں۔۔۔جن پر گزرتی ہے وہی جانتے ہیں۔ انکے دکھ اور نقصان کا ازالہ مذمت یا افسوس کے اظہار سے کہاں ممکن ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا یہاں کوئی بھی رجل رشید نہیں جو اس ظلم و بربریت کو روک سکے جو مذہب کے نام پر ہو رہا ہے۔
آخر ایسا بھی کیا کہ کوئی لیڈر حق و انصاف کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا؟ اس کو حکمرانوں اور سیاست دانوں کی منافقت کہا جائے کہ مظلومیت؟
بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ظلم کے قانون بنا کر یہ بات کہنا کہ سب برابر ہیں، سب کو حقوق حاصل ہیں، یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟
ایک طرف مذمتی بیان دینا دوسری طرف صفائی دینا کہ قانون میں تبدیلی نہ ہوگی؟
قانون قرآن کریم سے زیادہ افضل تو نہیں ہے۔قرآن مجید کی بھی بے شمار تفسیریں ہیں پر انسان کے بنائے ہوئے قانون پر بات نہیں ہو سکتی یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ قانون کلارجی کو تحفظ اور طاقت فراہم کرتا ہے لہذا اسکے تحفظ کا شور مولوی اسی لئے مچاتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے یہ اختیار انکے ہاتھ سے جائے اور وہ عوام کو کسی صورت جوابدہ ہوں۔
لہذا سب مل کر بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قانون کے تحفظ پر زور دیتے ہیں اور معاشرے میں خوف کی فضا قائم رکھتے ہیں اور سادہ لوح عوام اپنے مذہب کو ان بھیڑوں کے ہاتھوں دے کر یرغمال بن چکے ہیں۔ مثل مشہور بھول گئے کہ "نیم ملاں خطرہ ایمان , ۔۔ یہاں تو سارا دین ہی نیم ملاں کے حوالے کر دیا گیا ہے جو نہ کوئی خاص تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں نہ ہی مذہبی تعلیمات پر صحیح عمل کرتے ہیں۔
یہ ایک المیہ ہے کہ آجکل کے ملاں بد زبانی میں اول نمبر پر ہیں۔جب اپنے عقیدت مندوں میں تقریریں کرتے ہیں تو انکی گالیوں اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو پر بلند ہوتے نعرے کسی بھی شریف النفس انسان کا سر شرم سے جھکا سکتے ہیں، جبکہ انکے مداح جھوم جھوم کر داد دیتے ہوں۔

اک تماشا ہے اور کب سے جاری ہے۔۔۔۔!!

Posted in pencil

علم حاصل کرو محد سے لحد تک

جو قومیں ترقی کرتی ہیں انکے بزرگ بھی نوبل پرائز حاصل کرتے ہیں اور ہمارے بزرگ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ہمارے معاشرے میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ 40 سال کے بعد کچھ یاد نہیں رہتا جبکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو "رب زدنی علما ” کی دعا 40 کے بعد ہی سکھائی گئی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” علم حاصل کرو محد سے لے کر لحد تک ”
حیرت کی بات ہے کہ ہم اسلام کو دین کامل مانتے ہیں مگر اسکی بعض تعلیمات کو قابل عمل نہیں سمجھتے، ہمارا طرز زندگی، سوچ اور رویے اس بات کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں۔مذہب کے تقدس کے لیے جان دینے اور لینے سے گریز نہ کرنے والے اگر مذہب کو دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے مذہب کے حقیقی مقصد کو سمجھیں جو کہ صرف زندگی کو رواں اور بامقصد بنانے اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے، اور اس سے بڑھ کر اس کائنات کی سب سے عظیم طاقت سے جو کہ خالق کائنات ہے انسان کو connect کرنے کے لیے تا وہ خود کو بھی پہچانے اور مثبت راہ پر چلتے ہوئے منفی اثرات سے بچتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرئے۔کیونکہ منفی سوچ ہی شیطانیت ہے۔ پس اگر ہم مثبت سوچ سے آگے بڑھیں اور مثبت عمل کریں تو صراط مستقیم پر ہی چلیں گے اور کبھی نقصان نہیں اٹھیں گے بلکہ روحانی طور پر بھی مظبوط ہونگے۔یہی آخرت کی تیاری ہے اور موت کے بعد کا نتیجہ بھی۔

 

2017-10-09 09.08.51

Posted in pencil

رنگ لے اپنے رنگ میں

روشنی دے
ثبات دے
مرا حرف حرف
نکھار دے
تجھے میری آنکھ سے
دیکھ سکیں
قرینے مرے سنوار دے
جو رنگ ہیں تیرے
انھیں میں رنگ دے
میرے کچے رنگ اتار دے
مرے ذرہ ذرہ وجود میں
نور اپنا ڈھیروں اتار دے
نہ رہے کوئی میل نہ کسل باقی
مری روح کو ایسا اجال دے
یہی آرزو ہے کہ یہ نفس میرا
اسے نفس مطمئنہ میں ڈھال دے
تو ہی میرا پریم تو ہی پریت ہو
مجھے اپنے ہاتھوں سنوار دے

Posted in pencil

زندہ رہنے دو۔۔!

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کمزور لوگوں کو طاقتور لوگ زندہ ہی درگور کر دیتے ہیں۔ ایک انسان کو مارنے کے لیے ہتھیار کی ضرورت نہیں ہوتی اسکے بولنے، سوچنے اور اپنے طرز سے زندگی کو جینے کے سارے رستے بند کر دینا ہی اسکی موت ہے۔ پھر چاہے اسے محل میں بٹھا دو یا فرش پر، وہ ایک زندہ لاش ہوجاتا ہے۔۔۔اور لاشوں سے زندگی نہیں پھوٹتی۔۔۔!!