ڈائری

وہ جو گرد سی تھی جمی ہوئی وہ جبیں سے ہم نے اُتار دی

شبِ غم اگرچہ طویل تھی شبِ غم بھی ہنس کے گُزار دی

نہ بُجھا سکیں اُنہیں آندھیاں جو چراغ ہم نے جلائے تھے

کبھی لَو ذرا سی جو کم ہوئی تو لہُو سے ہم نے اُبھار دی

وُہی ٹھہرے مَوردِ کُفر بھی جنہیں دین جاں سے عزیز تھا

وُہی خار بن کے کھٹک رہے ہیں جنہوں نے فصل ِ بہار دی

ثاقب زیروی