قدر 

کسی چیز کی قدر تب ہی ہوتی ہے جب وہ باکثرت نہ ہو ۔

ٹھنڈی ہوا گرمی میں ہی تسکین کا باعث ہوتی ہے تو گرمی آگ کی تپش سردی میں ایک نعمت معلوم ہوتی ہے ۔ایسے ہی ڈھیروں کھانے پینے کی اشیا پڑی ہوں تو یا تو بھوک مر جاتی ہے یا ان کھانوں میں وہ لذت محسوس نہیں ہوتی جو شدید بھوک میں تھوڑا اور عام سا کھانا کھانے سے ملتی ہے ۔یعنی ہر چیز کی اہمیت کا احساس اسکے نہ ہونے یا کم ہونے پر ہوتا ہے۔شاید اسی لیے اللہ تعالٰی نے موسم بنائے ہیں اور زندگی میں اتار چڑھاؤ رکھا ہے اور یہی تبدیلیاں انسانی زندگی کو یکسانیت سے بچائے رکھتی ہیں اور تازگی عطا کرتی ہیں۔ ہر لمحہ امڈتیں امیدیں کچھ نیا کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں ۔تکلیفوں کو کم کرنے اور آسانیاں پیدا کرے کی طرف گامزن انسانی فطرت زمین سے آسمان تک کی کھوج لگانے میں مصروف ہے ۔پہیے کی ایجاد سے خلائی جہاز تک کا سفر ، انسان کے آسمان پر اڑنے کی خواہش ایک زمانے میں بس خوابوں کی باتیں ہی تو تھیں جو آج ایسی حقیقت بن چکی ہے جس کے بغیر فاصلوں کا اتنی تیزی سے سمٹنا اور تجارت کرنا ممکن نہیں ہے ۔مگر یہ سب کچھ انسان کی مسلسل محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے.ہمیں کسی بھی چیز کو فار گرانٹڈ نہیں لینا چاہیے بلکہ اسکی قدر کرنی چاہیے ۔ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ کائنات کے مالک اور خالق کی عطا ہے اور اس کا حق تب ہی ادا ہو سکتا ہے جب ہم معاشرے میں انصاف کو قائم رکھتے ہوئے ان نعمتوں کی  سب کو تقسیم یقینی بنائیں ۔اپنے ارد گرد جہاں تک ممکن ہو حقیقی معنوں میں فیض بانٹنے والے ہوں ۔ یاد رہے کہ اس دنیا میں ہم خدا کے چہیتے نہیں وہ تو کئی کائناتوں کا رب ہے اور اپنی تخلیقات اسے سب ہی پیاری ہیں ۔پس اپنی ذات کے دائرے سے باہر نکل کر خدا کے دائرے میں داخل ہونے کی ضرورت ہے ۔

حقیقی اخلاق 

کسی کو آگ سے نکالنے کے لیے خود کو آگ میں سے گزارنا پڑتا ہے گھر میں پڑا زائد کھانا دینا آسان ہے۔بات تو تب ہے جب اپنے منہ سے نوالہ نکال کر دے سکو ۔ جب تک خود کو تکلیف نہ پہنچے حقیقی اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے ۔جو  عمل آسانی سے ہو جائے اس پر ثواب کیسا ؟نیکی وہی ہے جو تکلیف اٹھا کر بھی کی جائے ۔اسی سے انسان کے اخلاق کا پتہ چلتا ہے ۔امتحان ضروری ہے ۔۔۔ منہ سے تو ہر  شخص ہی بڑے بڑے  دعوے کر لیتا ہے پتہ اسوقت چلتا ہے جب جان پہ بن آئے ۔

ذرا سوچیے ! 

ہمارے ملک میں جہاں نوجوان کی اکثریت علم سے مالا مال ہے، شاعر، ادیب، دانشور، سائنس دان، فلاسفر، ڈاکٹرز، انجنیئرز، بنکر غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم یافتہ افراد بکثرت موجود ہیں ۔سر ظفر اللہ خان ،ڈاکٹر عبدالسلام ہوں کہ پروفیسر ہود بھائی، ستارہ بروج اکبر ہو  یا ملالہ یوسفزئی ہم کہتے ہیں کہ ہم کسی سے کم نہیں ۔یقینا یہ ہیرے موتی جیسے لوگ ہیں مگر کیا صحیح معنوں میں ہم نے انکی قدر کی ہے؟ کچھ سیکھا بھی ہے ان سے یا پھر صرف انکے نام اور کاموں پر فخر ہی ہے بس؟؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بازگشت کی طرح گونج رہا ہے۔ہماری  سیاست،  پارلیمنٹ اور 50 سالہ  سیاسی تاریخ اس بات کا چیخ چیخ کر اظہار کر رہے ہیں کہ یہ قوم ایک گول دائرے میں چکر کاٹ رہی ہے جہاں سے باہر نکلنے کا انہیں راستہ نہیں مل رہا ۔ صورتحال بد تر سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔بے گناہ شہریوں ، بچوں کا خون بہایا جا رہا ہے مگر نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ جواب دینے والا ۔۔۔حکومت یا عوام شاید دونوں ہی گہری نیند سو رہے ہیں؟؟بے حسی کی انتہا ہو چکی ہے کہیں لاشیں اٹھ رہیں ہیں تو کہیں گدھے بک رہے ہیں، گٹر کے گند سے صابن بن رہے ہیں تو کہیں پیشاب کی بوتلوں سے بچوں کے فیڈر۔۔۔ غرض  لالچ اور ہوس انتہا کو پہنچ چکی ہیں ، قانون کیا ہوتا ہے ہمیں پتہ نہیں ، ہر بندہ اپنی مرضی کا مالک ہے ۔کہتے ہیں کسی ملک کی ٹریفک سے اسکے باشندوں کے کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔۔۔اور ہمارے ہاں ٹریفک کا جو حال ہے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔

ذرا سوچئے !  ہمیں کوئی اور قتل کر رہا ہے کہ ہم خود ہی ایک دوسرے کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں؟

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اسقدر  تعلیم یافتہ ہونے کا کیا فائدہ جب آنکھوں پر جہل کی پٹیاں باندھی ہوئی ہوں تو؟ دوسرں پر الزام تراشی کرنے کے بجائے ہمیں اپنا گریبان چاک کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو دور کیے بغیر تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ۔ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔جب تک عوام میں بیداری پیدا نہیں ہوگی فرق نہیں پڑے گا ۔

سچ کڑوا کیوں ہوتا ہے ؟ 

سچ کڑوا نہیں ہوتا ۔سچ بولنے کا انداز کڑوا ہوتا ہے۔ہمارےہاں سچ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے زیادہ بولاجاتا ہے ۔ہم سچ سے اصلاح نہیں کرتے قتل کرتے ہیں۔ یہ کام آسان  ہے اس میں محنت نہیں کرنی پڑتی اخلاص، محبت ،صبر ، برداشت ان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور ہماری انا کی تسکین بھی ہو جاتی ہے ہم اپنی نظروں میں سب سے اچھے بھی بن جاتے ہیں اور سچے بھی ۔بے باک ایسے  کہ کسی کو رعایت نہیں ، جو بھی ہو سچ ہی بولیں گے گویا سچ نہ ہوا بندوق کی گولی ہوئی جو بھی سامنے آیا ڈھیر کر دیا ۔پھر کہنا لوگوں کو سچ گوارا نہیں ۔کوئی پوچھے کہ بات کرنے کے بھی آداب ہوتے ہیں مینرز ہوتے ہیں وہ صرف کتابوں تک ہی کیوں؟ عمل کون کرے گا ؟ علم تو عمل کے بنا ادھورا ہے۔ بھلا باتوں سے بھی کبھی درد کا درماں ہوا ہے۔۔۔شبنم سے بھی کھبی پیاس بجھی ہے ؟جیسے جسم روح کے بنا مردہ ہوتا ہے ایسے ہی عمل نیت سے پہچانا جائےگا۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ

 "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے "

پس جیسی ہمارے دل کی نیت ہوگی وہی ہمارے اعمال کی روح ہوگی نہ کہ وہ دکھاوا جو دوسروں کے سامنے کیا جائے گا ۔پس جب انسان کا اندر ٹھیک ہو جائے تو باہر بھی سب ٹھیک ہو جاتا ہے ۔بس اپنے اندر کے پارسا کو مضبوط  کرنے کی ضرورت ہے ۔

صابر ظفر صاحب نے بھی کیا خوب کہا ہے 

ظاہرا ظفر تیری ہر اک ادا مشکوک تھی

پر تیرے اندر چھپا پارسا اچھا لگا

ایک عزیز کے نام خط

جب ہم لوگ اس دنیا سے گزر جائیں گے تو  ہماری ذمہ داریاں تم پر اور تم سے بھی چھوٹی عمر کے عزیزوں کےکندھوں پر ڈالی جائیں گی اور دنیا کی افتاد اور رفتار کو دیکھتے ہوئے میں اندازہ کرتا ہوں کہ تم لوگوں کی ذمہ داریاں ہماری ذمہ داریوں سے کہیں بڑھ کر ہوں گی ۔اگر تم ان ذمہ داریوں کو پورے طور پر ادا کرو گے تو ہماری روحیں بھی خوش ہوں گی اور آنے والی نسلیں بھی تمہیں مبارک گردانیں گی۔ اور تمھارا نام روشن ہوگا اور زندہ رہیگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تم خود خدا تعالٰی کے حضور مقبول ہوگے اور رحمت میں داخل کئیے جاؤ گے ۔

سر ظفر اللہ خان 

کتاب ایک عزیز کے نام خط، 16 مئ 1939

دل

دل میرا محبوب کا تخت 

محبوب وہ جو دل کی منزل 

توڑ دے جو دل دوسرے کا

وہ کہاں دیکھ سکے گا رستہ گھر کا

نہ اس جہاں نہ اس جہاں 
Poet younis Emre

Translated in urdu by pencil from English version by Jennifer Ferrari Latif Bolat


آگہی 

جس کو مل گئی ہو آگہی

گفتگو پھر اسکی کم رہی

 بے خبر وحشی جو رہا

 بولتا وہ رہا چیختا ہی رہا

لفظ فقط اک ہی کافی ہے اسے 

آگہی ہو جسے ۔۔۔

ترجمہ از پنسل

  ترکی کے صوفی شاعر یونس امرہ کی نظم سے کیا گیا ہے ۔

مسکراہٹ 

ہمیشہ مسکراتے رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسکرانے  والے کو کچھ بھی برا نہیں لگتا ۔۔ غصہ نہیں آتا ۔۔یا باتوں کی  سمجھ نہیں ہے۔۔نہیں،  یہ مسکراہٹ تو اسکے ظرف کی عکاس ہوتی ہے ۔۔اسکی برداشت، حوصلہ اور وسعت قلب کو ظاہر کرتی ہے۔دوسروں کے نقطہ نظر کا احترام اور سوچ کے احترام کو ظاہر کرتی ہے۔

let's make a difference