Posted in pencil

روپ 

سائنس کی روز بروز بڑھتی ہوئی ترقی اور نت نئی ایجادات کے ساتھ ساتھ منافقت، جھوٹ اور فریب نے بھی  کئی روپ دھار لیے ہیں۔۔۔ گویا بھلآئی اور برائی دونوں ہی اپنے عروج پر ہیں ۔اور ہم ان دونوں انتہائوں کے درمیان دنیا سے ناپید ہوتی انسانیت کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔

Posted in pencil

خوف اور شرافت 

ہمارے معاشرے میں شریف آدمی کو ساری زندگی اسی خوف میں مبتلا رکھا جاتا ہے کہ اسکی شرافت کی سفید چادر پر کوئی دھبہ نہ لگ جائے یعنی یہ کوئی ایسی صفت ہے جو ہر وقت خطرہ میں ہے۔ گویا شرافت نہ ہوئی پانی کا بلبہ ہوا۔اور باقی عوام کو کھلی چھٹی ہے جو بھی کریں، کیونکہ وہ شریف نہیں کہلاتے، نہ انکی چادر سفید ہے نہ میلی ہونے کا یا دھبہ لگنے کا ڈر ہے سو وہ آزاد ہوئے زمانے کے خوف سے، قانون سے، مذہب سے تہذیب سے ۔۔۔

اور شریف آدمی ۔۔؟
زندگی بھر اپنی شرافت کی حفاظت میں لگا رہے گا۔وہ سچ نہیں بول سکے گا کیونکہ شرافت کو خطرہ۔۔۔وہ سچی گواہی نہیں دے سکے گا کیونکہ شرافت کو خطرہ۔۔۔ہاں وہ خاموش رہے گا کیونکہ اگر بولا تو شرافت کی چادر کو کوئی بھی مخالف میلا کر دے گا اور سفید چادر پر دھبا لگ جائے تو آسانی سے نہیں اترتا ۔۔! سو شرافت کا مطلب ہوا ۔۔۔۔ خاموشی۔۔!! یا دوسرے الفاظ میں یوں کہ لیں کہ گونگے بہرے اوراندھے بن کر رہنا ۔معاشرے میں موجود خامیوں کو خامی نہ کہنا، اکثریت کی رائے سے اختلاف نہ رکھنا ، ورنہ  معاشرے سے شرافت کا سرٹیفکیٹ نہیں ملے گا۔ البتہ جان عذاب میں ضرور آجائے گی شریف آدمی کی سو یہ ایسا خوف ہے جو ہر سچ اور انصاف کی راہ میں باآسانی حائل کیا جاتا ہے اور ہم سب اس خوف کو پورے زور سے قائم رکھے ہوئے ہیں جیسے یہ کوئی مذہبی تعلیم ہو۔ 

Posted in pencil

قدر 

کسی چیز کی قدر تب ہی ہوتی ہے جب وہ باکثرت نہ ہو ۔

ٹھنڈی ہوا گرمی میں ہی تسکین کا باعث ہوتی ہے تو گرمی آگ کی تپش سردی میں ایک نعمت معلوم ہوتی ہے ۔ایسے ہی ڈھیروں کھانے پینے کی اشیا پڑی ہوں تو یا تو بھوک مر جاتی ہے یا ان کھانوں میں وہ لذت محسوس نہیں ہوتی جو شدید بھوک میں تھوڑا اور عام سا کھانا کھانے سے ملتی ہے ۔یعنی ہر چیز کی اہمیت کا احساس اسکے نہ ہونے یا کم ہونے پر ہوتا ہے۔شاید اسی لیے اللہ تعالٰی نے موسم بنائے ہیں اور زندگی میں اتار چڑھاؤ رکھا ہے اور یہی تبدیلیاں انسانی زندگی کو یکسانیت سے بچائے رکھتی ہیں اور تازگی عطا کرتی ہیں۔ ہر لمحہ امڈتیں امیدیں کچھ نیا کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں ۔تکلیفوں کو کم کرنے اور آسانیاں پیدا کرے کی طرف گامزن انسانی فطرت زمین سے آسمان تک کی کھوج لگانے میں مصروف ہے ۔پہیے کی ایجاد سے خلائی جہاز تک کا سفر ، انسان کے آسمان پر اڑنے کی خواہش ایک زمانے میں بس خوابوں کی باتیں ہی تو تھیں جو آج ایسی حقیقت بن چکی ہے جس کے بغیر فاصلوں کا اتنی تیزی سے سمٹنا اور تجارت کرنا ممکن نہیں ہے ۔مگر یہ سب کچھ انسان کی مسلسل محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے.ہمیں کسی بھی چیز کو فار گرانٹڈ نہیں لینا چاہیے بلکہ اسکی قدر کرنی چاہیے ۔ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ کائنات کے مالک اور خالق کی عطا ہے اور اس کا حق تب ہی ادا ہو سکتا ہے جب ہم معاشرے میں انصاف کو قائم رکھتے ہوئے ان نعمتوں کی  سب کو تقسیم یقینی بنائیں ۔اپنے ارد گرد جہاں تک ممکن ہو حقیقی معنوں میں فیض بانٹنے والے ہوں ۔ یاد رہے کہ اس دنیا میں ہم خدا کے چہیتے نہیں وہ تو کئی کائناتوں کا رب ہے اور اپنی تخلیقات اسے سب ہی پیاری ہیں ۔پس اپنی ذات کے دائرے سے باہر نکل کر خدا کے دائرے میں داخل ہونے کی ضرورت ہے ۔

Posted in pencil

حقیقی اخلاق 

کسی کو آگ سے نکالنے کے لیے خود کو آگ میں سے گزارنا پڑتا ہے گھر میں پڑا زائد کھانا دینا آسان ہے۔بات تو تب ہے جب اپنے منہ سے نوالہ نکال کر دے سکو ۔ جب تک خود کو تکلیف نہ پہنچے حقیقی اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے ۔جو  عمل آسانی سے ہو جائے اس پر ثواب کیسا ؟نیکی وہی ہے جو تکلیف اٹھا کر بھی کی جائے ۔اسی سے انسان کے اخلاق کا پتہ چلتا ہے ۔امتحان ضروری ہے ۔۔۔ منہ سے تو ہر  شخص ہی بڑے بڑے  دعوے کر لیتا ہے پتہ اسوقت چلتا ہے جب جان پہ بن آئے ۔