Posted in pencil

مہندی والے ہاتھ

دیوار میں چنوا دو
کہیں زندہ ہی دفنا دو
اسکے مہندی والے ہاتھ
مردوں کو بہکاتے ہیں
چہرے کو چھپا دو
آواز کو دبا دو
گھر میں ہی دفنا دو
یہ عورت ہے
اور اسکی عزت
نازک ریشم سے بھی زیادہ
ناقص العقل
باہر نکلے، دھوکہ کھائے
مردوں کو بہکائے
مکھی کی طرح
اس کے پیچھے پڑ جائیں گے
ڈھانک دو اس کو
یہ تو مرد کی میلی نظر سے ہی
میلی ہو جائے گی
نازک ہے بہت عزت اس کی
اس پر مہندی والے ہاتھ
اسکو زندہ ہی دفنا دو…!!
Advertisements
Posted in pencil

اک تماشا ہے اور کب سے جاری ہے

حدیث میں ہے کہ تخلقو بأخلاق اللہ
اپنے تئیں اللہ تعالٰی کے اخلاق اور صفات سے مزین کرو۔
یعنی خالق کی صفات اپناؤ اور اس جیسے بن جاؤ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان خالق کی پیدا کردہ مخلوق سے نفرت کرئے، تعصب کرے اور انکو دکھ پہنچائے۔
اگر وہ اپنے رب کی صفات اپنائے گا تو لازما ایک نافع الناس وجود بن جائے گا۔ یہی اسلام کی حقیقی تعلیم کا ماخذ ہے کہ رحمان کا بندہ یعنی عباد الرحمن بنایا جائے۔
افسوس تب ہوتا ہے جب مذہب کے نام پر نفرت کا پرچار ہو۔ لوگوں کے گھر جلائے جائیں،جان سلامت نہ رہے، بلکہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں توہین کا الزام لگا کر قتل کر دینا کوئی بڑی بات نہ رہے، اس پر ظلم یہ کہ اسطرح کے قاتلوں کا دفاع کرنے والے قتل پر احتجاج کرنے والوں سے زیادہ ہوں اور مذہبی جماعتوں کے علماء بھی کہلاتے ہوں تو ایسے معاشروں میں کسی بھی باضمیر انسان کا محفوظ رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یا تو اسے خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے یا ہجرت اسکا مقدر بنتی ہے۔ یہ خون کے پیاسے معاشرے خود ہی ایک دوسرے کا خون پی پی کر دم توڑ جاتے ہیں لیکن اس وقت تک جو نقصان ہو چکا ہوتا ہے اسکی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ کئی بے گناہ جان سے جاتے اور کتنے گھروں کے چراغ گل ہو تے ہیں۔۔۔جن پر گزرتی ہے وہی جانتے ہیں۔ انکے دکھ اور نقصان کا ازالہ مذمت یا افسوس کے اظہار سے کہاں ممکن ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا یہاں کوئی بھی رجل رشید نہیں جو اس ظلم و بربریت کو روک سکے جو مذہب کے نام پر ہو رہا ہے۔
آخر ایسا بھی کیا کہ کوئی لیڈر حق و انصاف کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا؟ اس کو حکمرانوں اور سیاست دانوں کی منافقت کہا جائے کہ مظلومیت؟
بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ظلم کے قانون بنا کر یہ بات کہنا کہ سب برابر ہیں، سب کو حقوق حاصل ہیں، یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟
ایک طرف مذمتی بیان دینا دوسری طرف صفائی دینا کہ قانون میں تبدیلی نہ ہوگی؟
قانون قرآن کریم سے زیادہ افضل تو نہیں ہے۔قرآن مجید کی بھی بے شمار تفسیریں ہیں پر انسان کے بنائے ہوئے قانون پر بات نہیں ہو سکتی یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ قانون کلارجی کو تحفظ اور طاقت فراہم کرتا ہے لہذا اسکے تحفظ کا شور مولوی اسی لئے مچاتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے یہ اختیار انکے ہاتھ سے جائے اور وہ عوام کو کسی صورت جوابدہ ہوں۔
لہذا سب مل کر بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قانون کے تحفظ پر زور دیتے ہیں اور معاشرے میں خوف کی فضا قائم رکھتے ہیں اور سادہ لوح عوام اپنے مذہب کو ان بھیڑوں کے ہاتھوں دے کر یرغمال بن چکے ہیں۔ مثل مشہور بھول گئے کہ "نیم ملاں خطرہ ایمان , ۔۔ یہاں تو سارا دین ہی نیم ملاں کے حوالے کر دیا گیا ہے جو نہ کوئی خاص تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں نہ ہی مذہبی تعلیمات پر صحیح عمل کرتے ہیں۔
یہ ایک المیہ ہے کہ آجکل کے ملاں بد زبانی میں اول نمبر پر ہیں۔جب اپنے عقیدت مندوں میں تقریریں کرتے ہیں تو انکی گالیوں اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو پر بلند ہوتے نعرے کسی بھی شریف النفس انسان کا سر شرم سے جھکا سکتے ہیں، جبکہ انکے مداح جھوم جھوم کر داد دیتے ہوں۔

اک تماشا ہے اور کب سے جاری ہے۔۔۔۔!!

Posted in pencil

علم حاصل کرو محد سے لحد تک

جو قومیں ترقی کرتی ہیں انکے بزرگ بھی نوبل پرائز حاصل کرتے ہیں اور ہمارے بزرگ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ہمارے معاشرے میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ 40 سال کے بعد کچھ یاد نہیں رہتا جبکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو "رب زدنی علما ” کی دعا 40 کے بعد ہی سکھائی گئی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” علم حاصل کرو محد سے لے کر لحد تک ”
حیرت کی بات ہے کہ ہم اسلام کو دین کامل مانتے ہیں مگر اسکی بعض تعلیمات کو قابل عمل نہیں سمجھتے، ہمارا طرز زندگی، سوچ اور رویے اس بات کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں۔مذہب کے تقدس کے لیے جان دینے اور لینے سے گریز نہ کرنے والے اگر مذہب کو دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے مذہب کے حقیقی مقصد کو سمجھیں جو کہ صرف زندگی کو رواں اور بامقصد بنانے اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے، اور اس سے بڑھ کر اس کائنات کی سب سے عظیم طاقت سے جو کہ خالق کائنات ہے انسان کو connect کرنے کے لیے تا وہ خود کو بھی پہچانے اور مثبت راہ پر چلتے ہوئے منفی اثرات سے بچتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرئے۔کیونکہ منفی سوچ ہی شیطانیت ہے۔ پس اگر ہم مثبت سوچ سے آگے بڑھیں اور مثبت عمل کریں تو صراط مستقیم پر ہی چلیں گے اور کبھی نقصان نہیں اٹھیں گے بلکہ روحانی طور پر بھی مظبوط ہونگے۔یہی آخرت کی تیاری ہے اور موت کے بعد کا نتیجہ بھی۔

 

2017-10-09 09.08.51

Posted in pencil

رنگ لے اپنے رنگ میں

روشنی دے
ثبات دے
مرا حرف حرف
نکھار دے
تجھے میری آنکھ سے
دیکھ سکیں
قرینے مرے سنوار دے
جو رنگ ہیں تیرے
انھیں میں رنگ دے
میرے کچے رنگ اتار دے
مرے ذرہ ذرہ وجود میں
نور اپنا ڈھیروں اتار دے
نہ رہے کوئی میل نہ کسل باقی
مری روح کو ایسا اجال دے
یہی آرزو ہے کہ یہ نفس میرا
اسے نفس مطمئنہ میں ڈھال دے
تو ہی میرا پریم تو ہی پریت ہو
مجھے اپنے ہاتھوں سنوار دے

Posted in pencil

زندہ رہنے دو۔۔!

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کمزور لوگوں کو طاقتور لوگ زندہ ہی درگور کر دیتے ہیں۔ ایک انسان کو مارنے کے لیے ہتھیار کی ضرورت نہیں ہوتی اسکے بولنے، سوچنے اور اپنے طرز سے زندگی کو جینے کے سارے رستے بند کر دینا ہی اسکی موت ہے۔ پھر چاہے اسے محل میں بٹھا دو یا فرش پر، وہ ایک زندہ لاش ہوجاتا ہے۔۔۔اور لاشوں سے زندگی نہیں پھوٹتی۔۔۔!!

Posted in pencil

سانچ کو نہیں آنچ

سچ کا سورج وہ
چھپانا چاہتے ہیں
بادلوں کی صورت وہ
آنا چاہتے ہیں
جانتے ہیں کہ سانچ کو نہیں آنچ
پھر بھی
بلبلے جھوٹ کے وہ
اڑانا چاہتے ہیں
گھول کر میٹھے گھڑے میں
جھوٹ کی کالک
پانی اسکا سب کو وہ
پلانا چاہتے ہیں
جانے کس بات کا گماں ہے انکو
انجام جھوٹ کا وہ
بھلانا چاہتے ہیں
کب تلک چلے گا کھیل انکا
طول کچھ اور وہ
دلانا چاہتے ہیں
دے نہیں سکتے دھوکہ وہ
کسی کو، مگر
خود فریبی میں زندگی وہ
بیتانا چاہتے ہیں
توڑ دے جھوٹ کے سب سحر مولا
اب ہم اس باطل کو بھگانا چاہتے ہیں

Posted in pencil

سخن

احساس جس سے آشنا ہے
بات وہ ناقابل بیان ہے
لفظوں کی زنبیل سے بھی
کچھ نہ مل پایا ہے
اک ہی صورت ہے باقی
لفظ کوئی الہام کرے
تا کہ سخن کلام کرے